Sunday, 10 June 2018

ماں

جب سے لکھنا شروع کیا , صرف ایک موضوع ایسا ہے , جس پر لکھنے کو الفاظ ڈھونڈھتا ہوں تو الفاظ نہیں ملتے , اگر لڑیاں جوڑنے کی کوشش کرتا ہوں تو نہیں جوڑ پاتا - بڑے بڑے لکھاریوں کی تحریریں دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ موضوع کا حق کسی سے بھی ادا نہیں ہوا - وہ عنوان جس کی بات کر رہا ہوں وہ ہستی ہے ماں -
کہہ سکتے ہیں کہ ماں ٹھنڈی چھاؤں ہے مگر وہ استراحت جو ماں کے کندھے پہ سر رکھنے سے ملتی ہے , شائد کہ جنت کی چھاؤں میں ہو  , دنیا میں ایسی چھاؤں کا تصور بھی ممکن نہیں -
ماں کے دل میں چھپی ہوئی محبت واحد انمول نعمت ہے , جس کا وزن کائنات میں سب سے بھاری , جس کی گہرائی ہر سمندر سے زیادہ اور جس کی وسعت افلاک سے باہر تک ہے -
لکھتے وقت الفاظ میں کتنی بھی مٹھاس بھرو , اس مٹھاس کا بدل نہیں جو ماں سے ملنے والی محبت میں ہے -
آج پھر وہی احساس کہ نہیں لکھ پاؤں گا , بہتر یہی ہے کہ ہاتھ روک لوں اور الله کے سامنے اپنی ماں کی صحت بھری زندگی کے لئے دامن پھیلا دوں -
وہ کریم ہے میری ماں کو , سب کی ماؤں کو سلامت رکھے -
آمین
آزاد ہاشمی
19 فروری 2016

No comments:

Post a Comment