" ایک اور سوگ ، ایک اور فوٹو سیشن"
ھماری بد قسمتی یہ ھے کہ ھم ماضی کی حماقتوں سے سبق نہیں سیکھتے - نہ ہی کسی سنگین معاملے کوسنجیدگی سے لیتے ھیں - ھمارے ارباب اختیار جھوٹ پہ جھوٹ بولتے جاتے ھیں اور ھم یقین کرتے رھتے ھیں -
کتنے جنازے اٹھے ، کتنی ماوں کی گود اجڑی ، کتنی سہاگنیں بیوگی کی چادریں اوڑھ چکیں ، کتنے معصوم یتیم ھوے - اس سب کا ازالہ کیسے ھو گا-
کون لایا یہ آگ اس آنگن میں اور کیوں لایا -کیا یہ آگ ھماری تھی - اسکا جواب کون دے گا -
یہ قطار در قطار کھڑے ھو کے جنازے پڑھ لینا ، بیرونی مداخلت کی کہانی سنا دینا ، دو چار لاکھ روپے لواحقین کو دان کر کے فوٹو سیشن کر لینا - معمول بن چکا ھے -
ان سانحات کے پیچھے اندرونی ھاتھ ھے یا بیرونی سازش ، قوم کو خبر سنا دینا تو کوئی خوبی نہیں اسکا حل نکالنا ضرورت ھے - ایجینسیوں کا کام اندھیرے میں تیر چلا دینے سے ختم نہیں ھو جاتا ، اسباب کو ختم کرنا اصل ہدف ھوتاھے-
مان لیا بیرونی ھاتھ ھے ، تو جناب آپ اس ھاتھ کو کیوں نہیں روکتے ، روکنے کی اھلیت نہیں یا روکنا نہیں چاھتے - کم از کم قوم کو سچ بتا دیں - شائد قوم اپنی حفاظت کی خود راہ نکال لے اور آپ سکون سے حلوہ پوڑی اڑاتے رھیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
9 اگست 2016
Sunday, 10 June 2018
ایک اور سوگ ، ایک اور فوٹو سیشن
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment