Thursday, 14 June 2018

ایک کروڑ کا عمرہ

" ایک کروڑ کا عمرہ "
شنید ہے کہ عمران خان نے ایک کروڑ سے زاید رقم خرچ کرکے ستائیسویں رمضان کی شب مدینہ منورہ اور مکہ شریف میں گذاری ۔  اللہ کے رسولؐ کی محبت میں گو یہ رقم کوئی بھی اہمیت نہیں رکھتی ۔ پھر عمران خان جیسے امیر کبیر کیلئے تو یہ " مونگ پھلی کے دانے " سے زیادہ نہیں ۔ اس سے زیادہ خرچ کرنے والے بیشمار امیرزادے بھی موجود ہیں ۔
اللہ کے حکم کی تعمیل اور رسول خدا سے محبت کا تقاضا کیا ہے ؟ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو کبھی ہماری سمجھ میں نہیں آتا ۔
اللہ کے نبیؐ کی سنت کیا ہے اور مسنون حج اور عمرے کتنے ہیں ؟ جبکہ آپ اس مخصوص خطہ کے رہائشی بھی تھے ۔ اللہ کا حکم کیا ہے اور عمرہ کب لازم ہے ۔ یہ وہ ضرورت تھی جسے جاننا چاہئیے تھا ۔
اسلام اعتدال کا دین ہے اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے ۔ اسراف قرآن کی تعلیمات میں بھی نا پسندیدہ ہے اور نبی پاک کی تعلیمات کے بھی منافی ہے ۔  صاحبان ثروت پر اللہ نے کچھ ذمہ داریاں لگا رکھی ہیں ۔ پہلی یہ کہ اللہ کے دئیے ہوئے مال سے خرچ کرو اور کیسے خرچ کرو اسکی بھی تفصیل بتا دی ۔ جس میں حقوق العباد اول ہیں ۔ زکوٰة لازم ہے ۔ ایک کروڑ روپے کا عمرہ کرنے والا شخص یقینی طور پر ارب پتی ہوگا ۔ ایک ارب پتی پر کتنی زکوِٰة واجب ہے ؟ کیا عمران خان اتنی زکوٰة ادا کرتا ہے جتنے اثاثے ہیں ؟ اگر کرتا ہے تو قابل تحسین ہے اگر نہیں تو عمرے کرنا فلاح نہیں ہے ۔ کیا اس کثیر رقم سے اکر بھیک مانگنے والے چند خاندانوں کو ذرائع آمدن کھول دئیے جاتے ، چند یتیم بچیوں کی شادیاں کر دی جاتیں ، افریقہ کے قحط زدوں کی مدد کر دی جاتی تو عمرے جیسا ثواب نہ ملتا ۔
لگتا یوں ہے کہ انکی اہلیہ کی رائے ہو گی کہ ستائیسویں کو جو بھی دعا کریں گے قبول ہو گی ۔ اسلئے رخت سفر باندھا ہو گا ۔ کیا مانگا ہوگا؟؟ اس پہ رائے نہیں دی جاسکتی ۔ اغلب امکان ہے کہ اقتدار کی خواہش نے اس اسراف پر مائل کیا ہو گا ۔ جیسے بھی ہے یہ اسراف ہے اور اللہ کو نا پسند ہے ۔  اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ اسراف عمران خاں نے اپنی جیب سے کیا ہے تو بھی درست نہیں کیونکہ ہر وہ رقم جو ملک سے باہر جاتی ہے وہ وطن کی امانت ہے اسراف میں نہیں جانی چاہئیے ۔
آزاد ھاشمی
١٤ جون ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment