" ناکارہ لوگوں کے مشاغل "
ہماری ذہنی پستی کا یہ عالم ہو گیا ہے کہ ہم بحث و تمحیص کیلیۓ کسی بھی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں - حقائق کو نظر انداز کر کے شخصی معاملات کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں -
ایک عظیم انسان کی موت نے ہر دل کو اداس کیا - جب تک اسکی سانس باقی رہی کوئی ایک زبان اسکے مذہبی , ذاتی یا سماجی کردار کی نفی نہیں کر سکی - تعجب اس وقت ہوا جب سوشل میڈیا پہ ایک مذہبی مفکر سمجھے جانے والے حضرت نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مرحوم کسی بھی طور پر اسلام سے آگاہ ہی نہیں تھے اور نہ ہی مذہبی ارکان کو اہمیت دیتے تھے - انہوں نے اپنے دلائل کے حق میں بہت سی کڑیاں بھی جوڑ دیں -
ایک دوسری بحث یہ شروع ہو گئی ہے کہ مرحوم نے آنکھوں کا عطیہ دے کر غیر اسلامی کام کیا ہے -
سمجھ نہیں آتا کہ ان جیسے موضوعات سے اسلام کی خدمت ہو گی , یا مرحوم کی خدمات کو رد کرنا مقصود ہے -
اسکی مذہبی فکر یا اعمال کا تعلق الله اور اسکے درمیان ہے - جو اس نے حقوق العباد کیلیۓ کیا , ایسا کام ہے جو صدیوں تک یاد رہے گا - قبولیت کا کیا کم ثبوت ہے , کہ الله نے اس شان سے قبر تک پہنچایا , جو شاہوں کو بھی نصیب نہیں ہوتی -
ناکارہ لوگوں کا فطری طور پر مزاج حاسدانہ بھی ہو جاتا ہے - انہیں اچھا کام بھی متاثر نہیں کرتا -
خدا را مذھب کی خدمت کا پہلا کام یہ ہے کہ کافروں کے نظام کی جڑیں کاٹنے پر پوری توجہ دو - میرا ایمان ہے الله کسی سے نہیں پوچھے گا کہ ایدھی مرحوم کا مذہبی فکر کیا تھا , اسکی آنکھیں تو مٹی کی امانت تھیں , کسی زندہ انسان کو کیوں دیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
10 جولائی 2016
Sunday, 10 June 2018
ناکارہ لوگوں کے مشاغل
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment