" شہادت علی کرم اللہ وجہہ"
اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ اس شہادت میں ابن ملجم کا کوئی ذاتی عناد تھا , تو بات زیادہ موزوں نہیں لگتی . جس ہستی کا بچپن , رحمت العالمین کی گود میں , جوانی حبیب خدا کے سائے میں گزری ہو . جس کی زندگی کا حاصل ہی اللہ کی رضا ہو . اسکی عداوت کسی سے ہو ہی نہیں سکتی . علی کرم اللہ وجہہ کا وہی دشمن ہوگا , جو اللہ کا راندہ ہوا ہو گا . جو شیطان کا پجاری ہو گا , جو رسول (ص) کا دشمن ہو گا . وہ ملوکیت کے پرستاروں کے سوا کوئی نہیں تھا . بد بخت ابن ملجم تو ایک کارندہ تھا . ملوکیت کو خوف تھا کہ اگر علم کا دروازہ بند نہ ہوا تو اسلام کی روشنی پھیلتی جائے گی . جہالت پنپ نہیں پائے گی . اور جہالت کے بغیر ملوکیت چل نہیں سکتی . سازش کی کامیابی اسی صورت ممکن تھی کہ ہدف مسجد میں ہو . ان جانے میں ہو , چھپ کر ہو . کیونکہ خطہ ارض میں کسی ماں نے وہ سپوت جنا ہی نہیں جو علی کرم اللہ وجہہ کے مقابل آکر وار کرے اور بچ نکلے .
سلام اس جرات کے مینار پر , سلام اس صبر کی انتہا پر , جان لیوا وار پر بھی نہ عدل سے ایک لغزش کی , نہ انتقام کا جذبہ غالب ہوا . اپنے لخت جگر سے فرمایا
" اگر میں جانبر ہو گیا تو اپنا معاملہ خود دیکھوں گا . اگر نہ ہوا تو بدلہ اتنا ہی لینا , جتنا وار ہوا ہے . خبردار بدلے میں ایک ہی وار کرنا , بہتر ہو گا کہ قاتل کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دینا "
کیا مقام ہے , کیا ضبط ہے , پوری طاقت ہوتے ہوئے بھی , جان پر حملے کے باوجود , نہ طیش , نہ غضب , نہ تحقیق , نہ تفتیش - نہ زندگی کی پرواہ , نہ موت کا خوف .
اللہ کے گھر میں پیدا ہونے والی ہستی , اللہ کے گھر سے آخری سفر کی تیاری .
نہ چہرے پر خوف , نہ غصہ . طمانت ہی طمانت . علی کرم اللہ سے بہتر کون جانتا تھا کہ اللہ کی راہ میں جان دینے کی لذت اور طبعی موت میں کیا فرق ہے . علی کرم اللہ کی شہادت سے کسے فائدہ ہوا اور کون نقصان میں آگیا . تاریخ کا ایک ایک ورق گواہ ہے .
آزاد ہاشمی
13 جون 2017
Wednesday, 13 June 2018
شہادت علی کرم اللہ وجہہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment