" ہر مسلمان سے ایک سوال "
الحمدوللہ ہم کو اللہ نے اس امت میں ہونے کا شرف بخشا . جو اسکے حبیب کی امت ہے . اللہ کے انعامات میں سے قران بھی ایسا انعام ہے جو ہماری ہدایت کی غرض سے نازل بھی فرمایا اور اسکی حفاظت کا ذمہ بھی اٹھایا . اسی پاک کتاب میں کھلے لفظوں میں حکم دیا .
" واعتصمو بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقو " اللہ کی رسی کو اکٹھے ہوکر , مل کر , ایک جماعت بن کے مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو . گروہ در گروہ مت ہو جاو . کیا اللہ کے اس حکم کو سمجھنے کیلئے کسی مزید وضاحت کی ضرورت تھی . کیا اس سیدھی سی بات کیلئے صرف و نحو پڑھنا لازم تھا . کیا ہمیں کسی محقق , مفسر , مجتہد یا فلسفی کی ضرورت تھی کہ آکر ہمیں سمجھا جائے کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے . کیا یہ آیت گروہوں میں بٹنے کی نفی نہیں کرتی . پھر ہمیں کیوں خیال نہیں آیا کہ یہ مذہب کے شناسا ہمیں کدھر لے کر جا رہے ہیں . پھر جو ہم کلمہ گو , ایک رب اور ایک رسول کو ماننے والے ہیں , ایک کتاب کو پڑھنے اور سیکھنے والے فرقوں میں کیسے بٹ گئے . کیا جن کو ہم نے امام مان لیا تھا , انہوں نے ہمیں اللہ کے اس حکم کی ہدایت کیوں نہیں کی . ہمیں فروعات میں کیوں الحھایا گیا . ہم حدیث والے , سنت والے , بریلی کے مدرسے والے , دیوبند کے مدرسے والے , آل رسول والے , امام ابو حنیفہ , امام مالک , امام حنبل , امام شافعی کے مقلدین بن کر الگ الگ کیوں ہو گئے .
کتنا اچھا ہوتا ہم اللہ کے حکم کو اور رسول پاک کے حکم کو اولیت دیتے . اگر ایسا ہو جاتا تو مسلمان ملکوں کی سرحدیں یوں دیواریں نہ اٹھا لیتیں . مسالک کی بنیاد پر بےشمار اختلافات نے مسلمانوں کو کمزور کیا . سوال پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں , ہر ذی شعور سے کہ کیا ہم سب کی
ذمہ داری نہیں کہ اس تفرقے کی دیوار کو راستوں سے ہٹا دیں . در گذر کی عادت اختیار کر کے فروعات سے دور ہو جائیں .
ازاد ھاشمی
Thursday, 30 November 2017
ہر مسلمان سے ایک سوال
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment