Thursday, 30 November 2017

ایک سال

" ایک سال "
پوری زندگی کے دکھ اور الجھنیں ایک طرف , اس ایک سال کا دکھ ایک طرف . پورا سال دل کو بہلانے کا ہر جتن ناکام . جی بھر کے ہنسنے کو دل ہی نہیں مانا . کھویا ہوا محبتوں کا خزانہ کہیں نظر ہی نہیں  آیا . چپکے چپکے آنکھیں گیلی کر لیتا ہوں اور چپکے چپکے سکھا لیتا ہوں . بہت دل کرتا ہے کہ ماں سے معمول کی ڈانٹ سنوں . مگر ماں اتنی دور چلی گئیں کہ نہ آواز آتی ہے نہ آواز جاتی ہے . مجھے وہ لمحہ بھولتا ہی نہیں . جب میری بیٹی نے میسج لکھا تھا . " دادی جان اب ہم میں نہیں رہیں " یہ وہ پیغام تھا جس پر یقین کرنے کو نہ دماغ حاضر تھا نہ دل مان رہا تھا . میں دیوانگی کی کیفیت میں کبھی ایک کو فون کرتا کبھی دوسرے کو . سب یہی کہہ رہے تھے جو میری بیٹی نے کہا . خود سے پوچھتے پوچھتے ایک سال ہو گیا کہ آخر امی جان کیوں چلی گئیں . کیا کمی تھی یہاں جو وہاں کا قصد کر لیا . مانتا ہوں کہ سب کو یونہی ایک روز جانا ہے . مگر ماں کا رشتہ ٹوٹ جانے سے اولاد بھی تو آدھی مر جاتی ہے . میں بھی سانس لیتا ہوں , مگر نہ پہلے کیطرح زندگی ہے , نہ امیدیں , نہ حالات سے سینہ سپر ہونے کی جرات . سب ہیں پھر بھی اکیلا ہوں . ذرہ سی تکلیف پہ سینکڑوں ہاتھ دعا کیلئے اٹھ جاتے ہیں . مگر پھر ماں جی کے دو لفظ " پریشان مت ہوا کر , سب ٹھیک ہو جائے گا " کی کمی دور نہیں ہوتی .
اے میرے اللہ , سب کی ماوں کو سلامت رکھنا . اور جن  ماوں کو تو نے بلا لیا ہے ان سب کو میری ماں کے ساتھ جنت میں اعلی مقام دینا . اے اللہ تجھے تیری رحمتوں کا واسطہ ہے میری دعا قبول فرما لے . آمین
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment