Thursday, 30 November 2017

گنتی تو یاد ہو گی

" گنتی تو یاد ہوگی "
مشرقی پاکستان بننے جا رہا تھا , تو ہمارے پاس ایک دلیل باقی تھی کہ ہم یہ جنگ کبھی نہیں ہارتے , اگر پاکستان سے دوری نہ ہوتی . مکتی باہنی کی کامیابی ہماری کمزوری نہیں تھی , یہ مقامی لوگوں کی غداری تھی , جس نے ہمیں جنگ ہارنے پر مجبور کیا . پاکستان کی بہادر افواج کی قابلیت اور ذہانت کی پوری دنیا مداح رہی . عوام کے دلوں کی محبت کا تصور بھی ممکن نہیں , جو پاک فوج سے اسوقت تھی . مجھے یاد ہے کہ مجھے اپنے ایک ساتھی افسر کے ساتھ , جنگ رکنے کے بعد تیسرے روز لاہور شہر میں داتا صاحب کے ایریا میں آنا پڑا . ہم دونوں محاذ پر کیما فلاج کی  حالت میں ہی شہر آ گئے . لوگ دیوانہ وار  پھولوں کے ہار لا لا کر ہمارے گلے میں ڈالتے رہے . مجھے وہ بوڑھی ماں بہت یاد آتی ہیں جو ہم دونوں کو بار بار گلے لگاتی رہیں اور دعائیں دیتی رہیں . کبھی ماتھا چومتیں , کبھی گال اور کبھی وردی . پھر پاکستان کی شرمناک شکست کے بعد , کبھی وردی میں شہر کیطرف آنے کی جرات نہیں ہوئی .
اب پاکستان کی ان حدود کے اندر , جہاں نہ مکتی باہنی ہے , نہ زمینی فاصلے وجہ ہیں . جہاں چپہ چپہ پاکستانی فوج کی دسترس میں ہے . مٹھی بھر دہشت گرد , جن کے وسائل کسی طور ہماری فوج کے برابر نہیں . سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہر دوسرے تیسرے روز کسی نہ کسی افسر کی شہادت کی خبر مل جاتی ہے . اسے کیا کہنا چاہیئے . میرے بہادر فوج کے سالاروں کو ان شہداء کی گنتی تو یاد ہو گی . اس دہشت گردی کو طول ملنے کا کوئی تو سبب ہوگا . میری اور آپکی بہنیں , بیٹیاں کب تک سہاگ لٹاتی رہیں گی . مائیں کب تک اپنی اجڑتی کھوکھ پر روتی رہیں گی . معصوم بچے کب تک یتیم ہوتے رہیں گے . اس کھیل کا آخری راونڈ کھیلنے میں تردد کیوں . آج فوج پر قوم کو کتنا بھروسہ باقی  رہ گیا ہے . اب  کتنے افسروں اور جوانوں کے گلے میں قوم ہار ڈالتی ہے . کبھی وقت ملے تو ضرور سوچیں . کبھی خیال آئے تو اس کھیل کو آخری بار کھیل جائیں . قوم کے تھکنے کا انتظار نہ کریں .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment