روایات کسی معاشرے کا حصہ ایک دو سال میں نہیں بن جاتیں - انکو ایک طویل
وقت لگتا ہے - اور جن قوموں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے ہوتے ہیں , وہ اپنی
روایات کو دوسری قوم کا حصہ بنانے کی لگا تار کوشش کرتی رہتی ہے -
یہ عمل معاشرے کے رحجان کو بدلتا ہے - اسکا شکار غلام ذہنیت آسانی سے ہو جاتی ہے -
اسلام دشمن مافیا مسلسل مسلمانوں کے رحجانات تبدیل کرنے کے لئے پوری تگ و دو میں لگا ہوا ہے - جس کے اثرات اب نظر آ رہے ہیں - ہمارا رہنا سہنا , لباس , خورد و نوش , گفتگو کا انداز , میل ملاپ پوری طرح سے مغربی ہو گیا - ہمارا نظام تعلیم بدل گیا -
اسکے اثرات میڈیا پہ ہونے والے مذاکروں سے عیاں ہیں - کہ جس کا بھی دل کرتا ہے , مغربی تہذیب , ثقافت اور روایات کے گن گانے لگتا ہے اور اسلام کے تمدن میں خامیاں بیان کرنے کو اپنی علمیت کا حصہ سمجھتا ہے -
ولینتائیں ڈے بھی اسی یلغار کا حصہ ہے - ہمیں اور ہمارے علماء کو ہوش اس وقت آئ ہے جب یہ رسم ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے -اب نوجوان نسل ہی نہیں بلکہ اپنے آپ کو مہذب کہنے والا ہر فرد یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ یہ ایک زانی اور بے رہرو کی یاد کا دن ہے -
ہمیں اب سمجھ نہیں آ رہا کہ اسے کیسے روکا جاے - لوگوں کو کیسے باور کرایا جاے کہ یہ بے حیائی کی رسم ہمارے دین کے منافی ہے -
ہمارے علماء تو ابھی اس مسلے میں الجھے ہوے ہیں کہ عید میلاد النبی منانے والوں کو کیسے روکیں , حسین کو ماننے والوں کیسے اسلام سے خارج کیا جاے - اس کفر کی راہ روکنے کا وقت ملے تو سوچیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
یہ عمل معاشرے کے رحجان کو بدلتا ہے - اسکا شکار غلام ذہنیت آسانی سے ہو جاتی ہے -
اسلام دشمن مافیا مسلسل مسلمانوں کے رحجانات تبدیل کرنے کے لئے پوری تگ و دو میں لگا ہوا ہے - جس کے اثرات اب نظر آ رہے ہیں - ہمارا رہنا سہنا , لباس , خورد و نوش , گفتگو کا انداز , میل ملاپ پوری طرح سے مغربی ہو گیا - ہمارا نظام تعلیم بدل گیا -
اسکے اثرات میڈیا پہ ہونے والے مذاکروں سے عیاں ہیں - کہ جس کا بھی دل کرتا ہے , مغربی تہذیب , ثقافت اور روایات کے گن گانے لگتا ہے اور اسلام کے تمدن میں خامیاں بیان کرنے کو اپنی علمیت کا حصہ سمجھتا ہے -
ولینتائیں ڈے بھی اسی یلغار کا حصہ ہے - ہمیں اور ہمارے علماء کو ہوش اس وقت آئ ہے جب یہ رسم ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے -اب نوجوان نسل ہی نہیں بلکہ اپنے آپ کو مہذب کہنے والا ہر فرد یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ یہ ایک زانی اور بے رہرو کی یاد کا دن ہے -
ہمیں اب سمجھ نہیں آ رہا کہ اسے کیسے روکا جاے - لوگوں کو کیسے باور کرایا جاے کہ یہ بے حیائی کی رسم ہمارے دین کے منافی ہے -
ہمارے علماء تو ابھی اس مسلے میں الجھے ہوے ہیں کہ عید میلاد النبی منانے والوں کو کیسے روکیں , حسین کو ماننے والوں کیسے اسلام سے خارج کیا جاے - اس کفر کی راہ روکنے کا وقت ملے تو سوچیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment