Tuesday, 30 May 2017

طارق جمیل کےنام

" محترم طارق جمیل کے نام "
آپکے لئے صحت کاملہ کی دعا کے ساتھ , چند گزارشات ہیں ۔ مجھے معلوم ہے کہ آپکے بہت سارے پیروکاروں کو ناگوار بھی گزریں گی ۔ آپ کی بھی سمع خراشی ہو گی ۔ اس بات کا اقرار بھی کرتا ہوں کہ آپ کی سعی سے ابلاغ کرنے والوں کو ایک رحجان ملا ہے ۔ بہت سارے لوگ اس دھارے سے جڑ گئے ہیں ۔ اسکا اجر اللہ کے پاس ہے ۔
کہنا یہ ہے ، آپ کی چند ایک کلپ ، سوشل میڈیا پہ دیکھیں  اور سنیں ۔ جس میں آپ ایسے ایسے واقعات ، روایات کا تذکرہ کرتے ہیں ، جو نہ پہلے کبھی سنیں ، نہ پڑھیں اور جو سراسر بے سروپا لگتی ہیں ۔ سمجھ نہیں آیا کہ آپ نے یہ سب تحقیق  کہاں سے کی اور کیوں کی ۔اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی مبین و بلیغ کتاب میں قصص الانبیاء کو  بھی اختصار سے بیان فرمایا کیونکہ قران کا مقصد رہنمائی تھا ، قصہ گوئی نہیں ۔
  قران پاک کی تعلیمات کو آگے بڑھانا ، حکم ربی بھی ہے اور آج کی اشد ضرورت بھی ۔ کافر دلائل کی مانگتا ہے  اور انکے سوالات کا جواب قرآن اور اسوہ حسنہ سے دینا ضروری ہے ۔
جنت کا نقشہ ، حوروں کا قد کاٹھ جاننا , جنت میں حوریں کیا کریں گی اور جنتی کیا ، تو اسلام سے اگاہی نہیں ۔ معاشرتی زندگی میں اسلام کی افادیت معلوم ہونا ، قران کا جدید علوم پر عبور اور سائینسی علوم کا قران سے ثبوت  ، قوانین اسلام ، اسوہ حسنہ کی اگاہی ، ایسے کتنے موضوعات ہیں ، جن پہ تشنگی ہے ۔ اور اکثریت کچھ نہیں جانتی ۔
آپ کا ایک حلقہ احباب ہے ، لاکھوں لوگ آپ کی تقلید کرنے لگے ہیں ، ان سب کو حقیقی علم کی ضرورت ہے ، ان بے سروپا کہانیوں سے گمراہی کی راہ کھل رہی ہے ۔ جو آپ کہہ رہے ہیں  ،  آنے والے کم علم خطیب ان کو دہرائیں گے اور یہ قصے روایت کی شکل اختیار کر لیں گے ۔ یہ سب آنے والے وقت میں حوالے بن جائیں گے ۔ مہربانی کیجئے ۔  ان معروضات پہ توجہ فرمائیں ۔ آپ کی خطابت سے میں بھی متاثر ہوں آپ پایہ کے خطیب ہیں ۔ مگر محض خطابت کے جوش میں الفاظ کی اہمیت کو بھول جانا بھی شایان شان نہیں ۔
والسلام
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment