صحافت ایک مقدس پیشہ اس اعتبار سے ہے کہ اس سے اچھے اور برے کی آگاہی ملتی
ہے , شعور ملتا ہے , راستے کی سمت کا پتہ چلتا ہے اور آنے والے برے وقت کی
نشان دہی ہو جاتی ہے - بھولی ہوئی اچھی باتوں کی دہرائی ہو جاتی ہے - اور
عام فرد کو اپنے راستے کے تعین کی آسانی ہو جاتی ہے - گویا انسانی فکر میں
بہتری آتی ہے - یہ صرف اور صرف اسی وقت ہوتا ہے جب صحافی دیانتداری سے
اپنے فرائض انجام دے - جب وہ سچائی اور حقائق کی بات کرے - پیشے کا تقدس
ذاتی اغراض کے ماتحت نہ ہو - قوموں کے عروج و زوال میں صحافت کا بہت اہم
کردار رہتا ہے - یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی خوف , کسی مصلحت , کسی سازش
کا شکار ہوۓ بغیر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں - اور اپنی قلم سے معاشرے کی
برائیوں کو پنپنے نہیں دیتے -
مگر بد قسمتی سے ہمارے وطن کے بیشتر صحافی بلیک میلر ہیں , راشی ہیں , قلم کو بیچنے والے سوداگر ہیں , ایمان اور اخلاقی اقدار سے نا آشنا ہیں - انھیں نہ مذھب عزیز ہے , نہ وطن اور نہ ہی قوم سے کوئی دلچسپی ہے - جنہوں نے چند سکوں کی خاطر اپنے پیشے کی حرمت بیچ دی ہے - جو نیلام ہوتے ہیں ہر زیادہ بولی دینے والا خرید سکتا ہے - چند ایک جو اپنے پیشے کے تقدس کے لئے نہ بکتے ہیں نہ جھکتے ہیں , انھیں دیوار سے لگا دیا گیا ہے اور یہ نیک کام بھی ضمیر فروش صحافی ہی کرتے ہیں -
اگر یہ کہا جاے کہ یہ دولت کے پجاری صحافی ایک ایسا ناسور بن گئے ہیں جنہوں نے پورے معاشرے کو مفلوج کر رکھا ہے - یہ شرافت اور دانش کے لباس میں چھپے ہوۓ ننگے لوگ ہیں -
انکے اطوار کو جاننے کے باوجود کسی کی جرات نہیں کہ ایک لفظ انکی کرتوتوں پر کہہ سکے - حالانکہ اگر انکا قبلہ درست ہو جاے تو بہت ساری خرابیاں خود بخود ختم ہو جاینگی -
شکریہ
آزاد ہاشمی
مگر بد قسمتی سے ہمارے وطن کے بیشتر صحافی بلیک میلر ہیں , راشی ہیں , قلم کو بیچنے والے سوداگر ہیں , ایمان اور اخلاقی اقدار سے نا آشنا ہیں - انھیں نہ مذھب عزیز ہے , نہ وطن اور نہ ہی قوم سے کوئی دلچسپی ہے - جنہوں نے چند سکوں کی خاطر اپنے پیشے کی حرمت بیچ دی ہے - جو نیلام ہوتے ہیں ہر زیادہ بولی دینے والا خرید سکتا ہے - چند ایک جو اپنے پیشے کے تقدس کے لئے نہ بکتے ہیں نہ جھکتے ہیں , انھیں دیوار سے لگا دیا گیا ہے اور یہ نیک کام بھی ضمیر فروش صحافی ہی کرتے ہیں -
اگر یہ کہا جاے کہ یہ دولت کے پجاری صحافی ایک ایسا ناسور بن گئے ہیں جنہوں نے پورے معاشرے کو مفلوج کر رکھا ہے - یہ شرافت اور دانش کے لباس میں چھپے ہوۓ ننگے لوگ ہیں -
انکے اطوار کو جاننے کے باوجود کسی کی جرات نہیں کہ ایک لفظ انکی کرتوتوں پر کہہ سکے - حالانکہ اگر انکا قبلہ درست ہو جاے تو بہت ساری خرابیاں خود بخود ختم ہو جاینگی -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment