Thursday, 1 June 2017

حیرانی ہے

حیران ہوں , ہماری قوم کو سوچنے اور سمجھنے کی فرصت نہیں , ضرورت نہیں یا عقل ہی ختم ہو گئی - جمہوریت کی سیڑھی سے آنے والے لوگوں کی کرپشن , لوٹ مار , نا اہلی اور بد معاشی نے وطن اور قوم کو بھکاری بنا کر رکھ دیا ہے - ملک کے سارے وسائل بند کر دیے ہیں - ایک متوسط طبقے کا گھرانہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے قابل نہیں رہا - غنڈے عزت دار بن کر حکمرانی کر رہے ہیں , شرفاء عزتیں بچانے کی فکر میں چار دیواری میں دبک گئے ہیں - بد دیانتی ثابت ہونے پہ بھی احساس ندامت نہیں ہوتا - اشرافیہ کی گفتگو بازاری لفنگوں جیسی ہو گئی ہے -
ایک اسمبلی میں بہٹھے غنڈے کا ڈرائیور پولیس کے افسر کی توہین کا پورا اختیار رکھتا ہے -
کیا یہ سب ہمیں اسی جمہوریت کے تحفے نہیں -
یہ کونسا الہامی حکم ہے کہ ہم نے جمہوریت سے ادھر ادھر نہیں دیکھنا - اس نظام میں کیا ایسی چاشنی ہے کہ سامراجی قوتوں نے کتنے خوشحال مسلمان ملک برباد کر دیے -
ہمارے پڑھے لکھے , عالم فاضل لوگ بھی جمہوریت کا ہی راگ الاپ رہے ہیں -
یوں لگتا ہے الله نے ہمارے عملوں کی پاداش میں ہماری عقل اور فکر کی ساری قوت چھین لی ہیں  - ہم نے اسلام کے نظام اور احکامات سے رخ موڑا تو الله نے جمہوریت کا آسیب ہمارے ذہنوں پہ مسلط کر دیا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment