Thursday, 1 June 2017

دولت کے شیدائی

میرے ایک دوست اکثر شکایت کرتے ہیں ,
" تمہاری  بیشتر تحریریں اداس اور مایوس لوگوں کے گرد گھومتی ہیں - کبھی چہکنے اور لہکنے کی بات بھی کر لیا کرو - کبھی اس ماحول کو بھی قریب سے دیکھو جو زندگی کا لطف اٹھا رہے ہیں - روتے پیٹتے بچوں کی باتیں لکھ کے مایوسی کا درس بانٹ رہے ہو - شکایتیں کرنا ہمیشہ سے غریبوں کی روایت ہے - مسائل ہوں تو کاروبار کو جلا ملتی ہے , معاشی مسائل ضروری ہیں "
شائد محترم کی بات ٹھیک ہے - سکوں سے پر آسائش زندگی گزارنے والوں کو ان کہانیوں سے بوریت ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں - درد کا احساس تو اسے ہی ہو گا , جس کو کبھی درد ہوا ہو - بھوک کی شدت کیا ہوتی ہے ضیافتیں کھانے والے کیا جانیں - جن کے بچے بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہوں , انہیں یتیم بچوں کا کیا احساس ہو گا, جو صبح کسی کونے میں کھڑے ہو کر اسکول جاتے بچوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ کر روتے ہیں - انہیں کیسے پتہ چلے گا جن کے بچے مخملی بستر پہ سوتے ہیں کہ اینٹ کا سرہانہ کیا ہوتا ہے - جن کے گھر گرمیوں میں ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم ہو جایں , وہ کیا جانیں کہ سردی اور گرمی کی شدت کیا کرتی ہے - غریبوں کے مسائل میں کاروبار ڈھونڈھنے والوں کو کیا خبر کہ انسانیت کیا ہوتی ہے - جس نے درد دیکھا ہو , وہ لکھاری درد لکھتا ہے , اسے لطیفے یاد نہیں ہوتے - درد والے سب اسکے اپنے ہوتے ہیں - اس لئے وہ اپنوں کی باتیں لکھتا ہے - یہ فطرت کی آواز ہے - پیسے کی ریل پیل پہ غریبوں کے درد کو کاروبار کا ذریعہ سمجھنا کم ظرفی اور خود غرضی کی معراج ہے - کوئی  تو ہو جو اپنے لوگوں کے درد کا مداوا ڈھونڈھے - امیروں کی محفلوں میں تو صرف بین الاقوامی موضوع ہی زیر بحث ہوتے , ثقافت کے نام پہ راگ و رنگ کے تذکرے , تقریبات میں عشوہ سازی , تو امراء کا معمول ہے - ایسے میں کسی ضرورت مند حاجت روائی کی بات مایوسی ہی کہلایے گی -
اگر یہ دولت کے شیدائی , تھوڑا پیچھے دیکھیں تو شاید انکے باپ دادا میں سے کوئی غربت کے درد کا شکار رہا ہو -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment