Monday, 14 May 2018

قوم اور وطن کے اصل دشمن

" قوم اور وطن کے اصل دشمن "
ایک واویلا شروع ہے کہ ہمارے ملک کی سالمیت کو امریکہ ، بھارت ، اسرائیل اور دیگر بیرونی دشمنوں سے خطرہ ہے ۔ باہر کا دشمن اسوقت کامیاب ہوتا ہے ، جب کوئی قوم باہمی نفاق کا شکار ہو جاتی ہے ۔ جب عیش پرستی حریت پر غالب ہو جاتی ہے ۔ جب احمق دانشور کا جبہ پہن لیتے ہیں اور قوم انکو سننا شروع کر دیتی ہے ۔ جب حکمرانی تجارت بن جاتی ہے ۔ ہم اگر غور سے دیکھیں تو حقیقت یہی نظر آئے گی کہ بھارت مشرقی پاکستان کو الگ کرنے میں اسوقت کامیاب ہوا ، جب بنگالی وطن کے دشمن بنے ۔ کسی بھی ملک کی اساس اسوقت تک مضبوط رہتی ہے جب تک وطن کے مفادات ، ذاتی مفادات پر اولیت رکھیں ۔ آج کی سیاسی بساط پر غور کریں کہ تمام کے تمام سیاسی رہنماء کسی بھی قیمت پر اقتدار چاہتے ہیں ۔ ملک کے مالی وسائل کا کسطرح ضیاع ہو رہا ، یہ سارا بوجھ معیشت پر پڑتا ہے ۔ وہ ملک جس کی نسلیں بھی مقروض ہو چکی ہیں ۔ اس ملک کے سیاستدان کروڑوں روپے جلسوں اور جلوسوں پر خرچ کر دیتے ہیں ۔ ہزاروں لوگوں کو روزگار پر توجہ سے ہٹا کر اپنے لئے نعرے بازی پر مشغول کر رکھا ہے ۔ علماء نے دین سکھانا تھا کہ امن ہو ۔ انہوں نے مسالک پڑھا دئیے کہ فساد ہو ۔ میڈیا نے برائی اور اچھائی میں تمیز کرنی تھی کہ قوم صحیح سمت کا تعین کرلے ۔ انہوں نے ایسا ابہام پھیلایا کہ سمجھ ہی نہیں آ رہا سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ۔ فوج نے بیرونی دشمن کی یلغار روکنے پر توجہ مرکوز رکھنی تھی ، وہ سیاست میں گھس گئے ۔ اداروں کی تصحیح میں لگ گئے ۔ عدالتوں کو جرم کی بیخ کنی کرنا تھی ، وہ اپنی اپنی صوابدید پر انحصار کرنے لگے ۔ اور قانون کو چرب زبان وکیل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔ صنعتکار کو ضروریات کی ارزاں اشیاء تیار کرنا تھیں ، انہوں نے مہنگی مصنوعات بنا کر مارکیٹ دوسرے ممالک کو دے دیں ۔ اگر پوری دیانتداری سے تجزیہ کریں تو ہم سب ملک کو چاٹنے والی دیمک ہیں ۔ اگر ہم اپنی اپنی جگہ پر غلط اور صحیح کی پہچان کر کے راست اقدامات نہیں کریں گے ۔ ایک دوسرے حقوق یونہی سلب کرتے رہیں گے ۔ یونہی پنجابی ، سندھی ، مہاجر ، بلوچ اور پختون بن کر سوچتے رہیں گے ۔ جب تک سب کے سب پاکستانی نہیں بن جائیں گے ۔ ہم ہیں اصل دشمن ، اس دھرتی کے ۔
جب ہم چاہیں گے تو نہ عدالت انصاف روک سکے گی ، نہ لیڈر بیوقوف بنا سکیں گے ، نہ فوج سرحدوں سے غافل ہو گی ۔ تعجب ہے جو قانون بنانے نکلے تھے انہوں نے گلیوں اور نالیوں کی مرمت شروع کر رکھی ہے ۔ تعجب ہے ایک وزیراعظم ہاوس ایک مہینے میں کروڑوں کھا جاتا ہے ۔ قابل نفرت ہے کہ بیکار بیٹھا صدر چھبیس لاکھ کا چونا ملک کو تنخواہ کی مد میں لگا رہا ہے اور غریب مزدور بھوکا مر رہا ہے ۔ یہ ہیں وطن اور قوم کے دشمن ۔ اور ان سے بڑے دشمن ہم اور آپ ہیں ، جو سوچتے بھی نہیں اور بولتے بھی نہیں ۔ جو بھارت ، امریکہ اور اسرائیل کے خوف سے کانپتے رہتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٩ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment