" کوئی بتائے گا؟ "
سب کہتے ہیں کہ ہماری قوم کو سیاسی شعور آگیا ہے ۔ اگر کسی کو پتہ ہو کہ سیاسی شعور کیا ہوتا ہے تو ہم جیسے بےخبر لوگوں کو بھی اگاہی دے دیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم جیسے عمر کے آخری حصہ میں یوں ہی نہ چل بسیں ۔ اگر پوری طرح غور و فکر کریں تو لگتا ہے کہ ہماری قوم کو تو ابھی شعور ہی نہیں آیا ۔ اگر شعور آگیا ہوتا تو یقینی طور پر جمہوریت کی دیوی کے پجاری نہ بنتے ، اللہ کے نظام کو اپنا لیتے ۔ ہماری عمر کے اکثر لوگ بس ایک ہی راگ الاپتے الاپتے مر جاتے ہیں کہ دیکھو اسلام میں یہ خوبی ہے ، وہ خوبی ہے ۔ جمہوریت میں یہ برائی ہے وہ برائی ہے ۔ شاید اسلئے کہ ہم پتھر کے زمانے کی سوچ والے لوگوں کو " سیاسی شعور " آیا ہی نہیں ۔ اسی لئے ہماری کوئی سنتا ہی نہیں ۔ جب دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے علماء ، اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے بھی جمہوریت ہی راگ گاتے ہیں تو اپنی کم علمی پر بہت دکھ ہوتا ہے اور دل کڑھتا ہے کہ ہم کو سیاسی شعور کیوں نہیں آیا ۔ شاید جہاں سے مفاد ملے اسکے پیچھے چل پڑنے کا نام ہے سیاسی شعور ہے ۔ اور یہ ہم جیسوں کی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا ۔
میں آج بھی دیکھتا ہوں کہ علاقے کا سب بڑا غنڈہ ایم این اے بن جاتا ، اس سے چھوٹا ایم پی اے اور اس سے چھوٹا ضلعی ناظم اسی طرح تسلسل علاقے کے ممبر تک پہنچتا ہے ۔ آج بھی اچھے امیدوار کو ووٹ اسلئے نہیں ملتے کہ اسکی برادری نہیں ہوتی ۔ آج بھی پڑھا لکھا ہار جاتا ہے اور جعلی ڈگری والا جیت جاتا ہے ۔ آج بھی غداروں کی اولاد سیاست کے میدان میں موجود ہے اور آج بھی اقتدار انکے گھر میں بستا ہے ۔ آج بھی نالیاں بنا کر دینے والے کو قانون ساز مان لیا جاتا ہے اور قانون کی بات کرنے والے کو خبطی سمجھا جاتا ہے ۔ آج بھی علاقے کا تھانیدار غلام ہوتا ہے اور اسمبلی ممبر کے کہنے پہ کسی بھی شریف زادے کی شلوار اتار دیتا ہے ۔ آج بھی ہم اپنے بچوں کی ضروریات کی پرواہ کئے بغیر کئی کئی روز دھرنوں پہ بیٹھے رہتے ہیں ۔ آج بھی ہم جھوٹے وعدوں کے عادی سیاستدانوں پہ یقین کر لیتے ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی سیاستدان ، جسے جھوٹا کہتے ہیں اسی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتے ہیں ۔ آج بھی انہی چوروں کو ساتھ ملایا جاتا ہے ، جن کے خلاف تحریک کا آغاز کیا تھا ۔
کہاں ہے سیاسی شعور ؟ کوئی تو بتاو کہ کیا تبدیلی ہے سوچ میں ، کیا تبدیلی ہے نظام میں ، امراء کے نالائق بچوں کی جگہ غریبوں کے ذہین بچوں نے کب لی ہے ۔ آج جنگل سے بد تر قانون ہے انسانوں کے معاشرے میں ۔ کیا یہ شعور ہے؟؟
آزاد ھاشمی
١٠ مئی ٢٠١٨
Monday, 14 May 2018
کوئی بتائے گا ؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment