Monday, 14 May 2018

میراجلسہ بڑا ہے

" میرا جلسہ بڑا ہے "
میرے وطن کی سیاست کا طریقہ بھی کتنا شرمناک ہے ۔ ہر سیاسی جماعت یہ دکھانے پر زور دے رہی ہے کہ اسکے ساتھ کتنے احمقوں کا جلو ہے ۔ ہر جلسے میں شامل کتنے ایسے ہیں جن کے گھروں میں رات کو چولہا انکی " دیہاڑی " سے جلتا ہے ۔ کتنے مجبور ہیں جو چوہدری ، خان ، وڈیرے اور پیروں کی غلامی کا حق ادا کرنے آئے ہیں ۔ کتنے ہیں جو تماش بین ہیں ۔ کتنے ہیں جن کو امید ہے کہ پارٹی جیت گئی تو انکا بھائی ، بیٹا یا بھانجا کوئی نوکری حاصل کر لے گا ۔ کتنے ہیں جن کو برادری کو خوش رکھنا تھا ۔ کتنے ہیں جو یونٹ ممبر بننے کی امید سے آجاتے ہیں ۔ اور کتنے ہیں جن کو پتہ ہی نہیں کہ کیوں آئے ہیں ۔
ان سیاسی لیڈروں سے کون پوچھے کہ یہ جو دولت کا ضیاع ہے ، یہ وطن کا اثاثہ ہے ، یہ جو قوم کا وقت ہے اسکی وطن کو ضرورت ہے ۔ اسے کیوں برباد کر رہے ہو ۔ تم سب اگر اہل ہو تو میڈیا پہ آ کر اپنے منشور پیش کرو ۔ پھر جسے قوم پسند کرے ، اسے منتخب کر لے ۔ یہ جلسوں کا شوق قوم کو گمراہ کرنے کیلئے شروع کیا جاتا ہے ۔ جلسہ لاہور میں ہے تو بندے پشاور سے ، ملتان سے ، کوئٹہ سے ، کراچی سے اور دور دور دیہاتوں سے اکٹھے کر کے قوم کو بیوقوف بنایا جاتا ہے ۔ یہ تماشا ہے اور منافقت ہے قوم سے ۔ اسکا معیشت پہ کتنا بوجھ ہے ۔ کون سوچتا ہے ، کس کو فکر ہے اور کون حساب کرتا ہے کہ یہ وطن سے کتنی بڑی دشمنی ہے ۔ تم سب کے پاس کرنے کو کیا ہے ، منشور لکھو ، میڈیا پہ مذاکرے کرو ، قوم جس سے مطمئن ہو اسے چن لے گی ۔ وقت اور پیسہ برباد مت کرو ۔ جلسوں کا حجم مصنوعی ہے ، فریب ہے ، بہکاوہ ہے ۔ جو بھی کرتا ہے اسے لیڈر ہونے کا حق نہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٠ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment