" شان رسالت "
تخلیق کائنات اور کائنات کے سارے نظام کا قائم و دائم رہنا , رب العالمین کی شان ہے . کوئی ایک چیز اپنے نظام سے نہ باہر جا سکتی ہے نہ دوسرے نظام میں داخل ہو سکتی ہے . میں یہی سمجھتا رہا کہ اللہ کی پاک ذات اس نظام کو قائم رکھنے میں مصروف رہتی ہے . مگر جب یہ پتہ چلا کہ اللہ جب کسی چیز کا ارادہ فرما لیتا ہے تو صرف " کن " کہنے سے ارادے کی تکمیل ہو جاتی ہے . پھر جب یہ آیت پڑھی کہ " اللہ اور فرشتے نبی پاک ص پر درود بھیجتے ہیں " تو ادراک اور فکر سے شان رسول کا تعین کرنا ممکن نہیں رہا . آپ ص کی شان کو جہان بھی رکھا جائے , محض مفروضہ ہو گا . انسانی عقل کیسے احاطہ کر پائے گی , اس ہستی کی شان کے بارے میں , جس پر درود بھیجنے میں اللہ پاک خود مصروف ہو . فرشتے جو تسبیح و تمحید میں لگے ہوں , وہ بھی تمحید و تقدیس کے ساتھ ساتھ درود بھی بھیجنے کا فرض نبھاتے ہوں . کتنی خوش قسمت ہو گی وہ زبان جس سے درود کی صدا بلند ہوتی ہو گی . کیسا بخت ہو گا اس انسان کا , جس کے معمول میں درود بھیجنا ہو گا .
اللہ کا حکم کہ اے ایمان والو , اللہ اور فرشتے آپ ص کی ذات پر درود بھیجتے ہیں اور تم بھی اس عمل کو اپنا لو . اور درود کی تکمیل کیلئے آل نبی پر درود کو الگ نہیں کیا جا سکتا . یہ ہماری عبادت , ہماری نماز کا لازمی جزو ہے .
اللہ کی رضا کے لئے درود کا عمل لازم ہے اور عبادت ہے .
ازاد ھاشمی
16 مئی 2017
Wednesday, 16 May 2018
شان رسالت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment