" ملک کے راز "
پوری دنیا میں ایک ہی اصول ہے کہ ہر رہنماء اور کلیدی کرسی پہ بیٹھا ہوا ہر فرد ، اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ زندگی کے کسی بھی لمحے ، کسی بھی حال میں ، بالواسطہ یا بلا واسطہ ملک کی سلامتی کی خاطر کوئی راز پبلک نہیں کر سکتا ۔ ایسا کرنے والا ملک کا غدار تصور ہوتا ہے ۔
پاکستان کے دستور میں بھی ایسی ہی پابندی ہے ۔ جو حلف لیا جاتا ہے ۔ وہ بھی اسی سیاق و سباق میں لیا جاتا ہے ۔
قوم کا شعور ، بہت اہم ہوتا ہے اور اگر کوئی ایسا ارتکاب کرتا ہے تو اسے قوم کلی طور پر مجرم مان لیتی ہے ۔ مگر ہمارے ہاں جس کا بھی دل کرتا ہے ، جو منہ میں آتا ہے کہتا رہتا ہے ۔ نہ قوم کو برا لگتا ہے اور نہ قومی سلامتی کے ذمہ دار حرکت میں آتے ہیں ۔ کوئی بھی حکمران ان قومی سلامتی کے اداروں کی حدود سے تجاوز نہیں کر سکتا ۔ کوئی بھی سربراہ ایسا آزاد نہیں ہوتا کہ قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ، وطن کے دشمن کو اپنے گھر مدعو کر لے ۔ یہ پوری دنیا کا اصول ہے ۔ حکمران بن جانے کا قطعی مطلب نہیں ہوتا کہ ملک اسکے ابا جان کی وراثت ہے ۔ مگر ہمارے ملک میں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ،
نہ ادارے نہ قوم ۔ کون جانے کہ جو شخص اقتدار سے الگ ہونے کے بعد اتنا باولا ہو گیا ہے کہ سر عام ملک کے راز اگل رہاہے ، اس نے اقتدار کے دوران کتنے گل کھلائے ہونگے ۔ میری نظر میں وہ اخبار بھی قابل گرفت ہے ، جس نے اس بیان کو شائع کر دیا ۔
اکثر سیاسی پارٹیوں کے رہنماء دھمکی آمیز رویہ اپنائے رکھتے ہیں کہ اگر انہیں کوئی زک پہنچتی تو ہم یہ کر دیں گے ، ہم وہ کر دیں گے ، کی رٹ لگا دیتے ہیں ۔ حیرانی یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر سلامتی کے ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھتے ہیں ۔ ایسے لگتا ہے کہ ان ملک دشمنوں کو چھوٹ ملنے میں سلامتی کے ادارے بھی معاونت کرتے ہیں کہ جو چاہو بولو ۔
ہماری اعلی و ارفع پارلیمنٹ میں بھی یا تو اکثریت ایسے ہی ملک کے دشمنوں کی ہے ، جو ایسی زبان بولنے والوں کے احتساب پر کچھ نہیں بولتی ، یا سارے کے سارے مٹی کے بت ہیں ۔
سیاسی معاملات میں اتار چڑھاو ہوتا رہتا ہے ۔ اگر ایک وزیراعظم آتا ہے ، تو اسے جانا بھی ہوتا ہے ۔ اگر زیادتی ہو رہی ہے تو قوم خود محسوس کر لے گی ۔ اتنا واویلا کہ ملکی معاملات کو ابلاغ کر دینا ، نہ سیاست ہے اور نہ حب الوطنی ۔
آزاد ھاشمی
١٣ مئی ٢٠١٨
Monday, 14 May 2018
ملک کے راز
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment