" اگر یہ سچ ہے ؟ "
میڈیا پہ خبر ہے کہ
"نواز شریف نے منی لانڈرنگ کے زریعے 500 ارب روپے پاکستان دشمن بھارت کو بجھوائے. نیب نے نوٹس لےلیا تحقیقات شروع کر دیں ، میڈیا نے رپورٹس اور پروف دکھا دئیے "
اگر یہ خبر حقائق پر مبنی نہیں ہے ، سیاسی کھیل ہے تو اس سے زیادہ شرمناک رویہ کوئی نہیں ۔ ملک کا وزیراعظم بننے والا شخص سینکڑوں انٹیلیجنس مراحل سے گذرتا ہے ۔ پھر تین بار وزیراعظم بننے والا اگر اتنا بڑا جرم کرتا ہے تو یقینی طور ایک بار میں نہیں کیا ہو گا ۔ مجھے ذاتی طور پر نواز شریف میں وہ اہلیت نظر نہیں آئی کہ اسے وزیراعظم جیسے اہم عہدے کیلئے ایجینسیاں کلئیر کر دیتیں ۔ مجھے یقین بھی ہے کہ جس طریقے سے سڑکیں اور بڑے بڑے منصوبے اور قرضے حاصل کئے گئے ، اسکے پیچھے ذاتی مفاد کار فرما تھا ۔ اسکے دور حکومت میں اتنا بڑا سرمایہ ملک سے چلا گیا ، اگر یہ مجرم نہیں بھی تھا تو بھی یہ جرم اسی کے کھاتے میں جائیگا ، کیونکہ وزیراعظم ملکی اثاثوں کا محافظ بھی ہوتا ہے اور امین بھی ۔
اصل سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی رقم منی لانڈرنگ سے بھیجی گئی تو اس میں ایک نواز شریف تو شامل نہیں ہو گا ، بہت سارے دوسرے لوگ بھی مجرم ہونگے ۔ یہ سارے پیسے خزانے سے نکلے ہونگے ، تو اکاونٹنٹ جنرل اور ایڈیٹر جنرل بھی قصور وار ہیں ۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی غفلت بھی ہے کہ ملک سے اتنا بڑا سرمایہ باہر جا رہا ہے اور بنک کا کوِئی کنٹرول نہیں ۔ ملکی سلامتی کے تمام ذمہ دار ادارے بھی مجرم ہیں کہ انکو کانوں کان خبر نہیں کہ ملک لٹ رہا ہے ۔ اگر یہ سچ ہے تو ابھی تک نواز شریف کے گلے میں پھندا کیوں نہیں ڈالا گیا ۔ اب بھی اگر نواز شریف کے اس جرم کیلئے روایتی کمیشن بنائے جاتے ہیں ، قانون قانون کا کھیل کھیلا جاتا ہے ۔ تو پھر یا تو نواز شریف مجرم نہیں ہے ، محض سیاسی قلابازیاں ہیں ، یا اس جرم میں بہت طاقتور اداروں کے اعلی عہدیدار شامل ہیں ۔ اگر اس خبر کو بغیر کسی توقف کے منطقی انجام تک پہنچایا جاتا ۔
آزاد ھاشمی
٨ مئی ٢٠١٨
Monday, 14 May 2018
اگر یہ سچ ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment