Monday, 14 May 2018

ملک کے ادارے کیوں فعال نہیں ہوئے

" ملک کے ادارے کیوں فعال نہیں ہوئے "
انگریز ایک شاطر قوم ہے ، انہوں نے برصغیر میں قدم رکھتے ہی ، جو پہلا کام کیا ، ان لوگوں کو تلاش کیا ، جن کو خریدا جا سکتا تھا ۔ گھر کے بھیدی کی تلاش میں جو لوگ ملے ، وہ آج کے اکثر سیاستدانوں کے اباواجداد تھے ۔ قوم اور وطن سے غداری کیلئے ، پہلی خوبی یہ ہوتی ہے کہ انسان فطری طور پر بیغیرت ہوتا ہے ۔ حریص ہوتا ہے اور بد کردار ہوتا ہے ۔ بد قسمتی سے ان ضمیر فروش لوگوں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی ۔ پاکستان کی تحریک میں بھی یہی لوگ مخالف تھے ، انکے ساتھ کچھ "ملا " بھی شامل تھے ۔ پاکستان وجود میں آگیا ، تو یہی لوگ پاکستان کی سیاست کے کرتا دھرتا بنتے گئے ۔ آج بھی اگر تجزیہ کیا جائے تو انہی کی نسلیں سیاست کی بساط پر براجمان ہیں ۔ ان لوگوں نے پہلا کام یہ کیا کہ ہر کلیدی کرسی پر اپنے ہی مزاج اور اپنے ہی رشتہ داروں کو بٹھانا شروع کر دیا ۔ آہستہ آہستہ تمام اہم ادارے بالواسطہ یا بلا واسطہ انکے تسلط میں چلے گئے ۔ فوج کے اکثر جرنیل انہی خاندانوں سے متعلق رہے اور آج بھی ہیں ۔ پولیس ، عدالتیں ، خزانہ ، امور خارجہ ، میں سیاسی بھرتیاں ہوتی رہیں اور ہوتی رہتی ہیں ۔ یہ وہ زہر تھا جس سے سسٹم کو مفلوج کر دیا گیا ۔ اگر کوئی ہزار میں سے ایک آدھ اپنی قابلیت پر آگے آگیا تو اسے یا تو کھڈے لائن لگا دیا ، یا رشتہ داری کی زنجیر پہنا دی گئی ۔ آج بھی تمام کلیدی کرسیوں پر بیٹھے افسران کسی نہ کسی سیاستدان کی رشتہ داری میں بندھے نظر آئیں گے ۔
ادارے فعال ہو نہیں سکتے ، جب تک وہ بے لاگ نہ ہوں ۔ اسلئے ادارے سقم کا شکار ہوگئے ، سسٹم ویسے ہی چلنے لگا ، جیسے سیاسی گھرانے چاہتے رہے ۔ عدالتوں میں فیصلے بھی قانون سے ہٹ کر ہونے لگے ۔ طاقتور کو ہر سہولت ملتی رہی اور کمزور کو رگڑا ملتا رہا ۔ جس نے زبان کھولی ، اسکی عزت کو تار تار کردیا ، یا لمبی نیند سلا دیا ۔ اگر کچھ لوگوں نے ملکر اپنے حقوق کی بات کی تو انہیں غدار قرار دے دیا ۔
ادارے کمزور سے کمزور ہوتے گئے ۔ ان پڑھ ، جاہل ، غنڈے ، زانی ، شرابی اور کردار باختہ لوگ اسمبلیوں میں آتے رہے ۔ جنہیں نہ قانون کا ابجد معلوم تھا اور نہ دلچسپی تھی ۔ گورنر ہاوس جیسے مقام عیاشیوں کی آماجگاہ بن گئے ۔ ادارے ہوتے تو رکاوٹ ہوتی ۔ اداروں کا گلا پہلے ہی گھونٹ دیا گیا تھا ۔ آج بھی کچھ مختلف نہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو اسٹیبلشمنٹ ہیں ، یہی لوگ ہیں جو خلائی مخلوق ہیں ۔ یہی بادشاہ گر ہیں اور یہی فقیر ساز ۔
اب یہی واویلا کرتے ہیں کہ ادارے اپنی حدود سے تجاوز کرنے لگے ہیں ، یہی کسی دیانتدار افسر کو اسمبلی میں بلا کر ذلیل کرنے کا آغاز کرنے جا رہے ہیں ۔ ایک ادارہ متحرک ہوتا ہے تو اسے مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے ۔ بالآخر مٹا دیا جاتا ہے یا غیر فعال کر دیا جاتا ہے ۔  اداروں کو فعال نہ ہونے دینا ، ان جرائم پرور اسمبلی ممبران کی ضرورت رہی ہے ۔ جس وجہ سے نہ سسٹم بن سکا اور نہ چل سکا ۔
آزاد ھاشمی
١٢ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment