" کیا یہ کفر نہیں ؟ "
اللہ سبحانہ تعالیٰ کے احکامات سے کھلا انکار ، اللہ کی ذات و صفات کو نہ ماننا یا کسی دوسرے سے منسوب کرنا ، رسول کی رسالت اور اطاعت سے عملی انحراف ، اللہ کی کتاب میں شک اور خامیاں تلاش کرنا ، اللہ کی کتاب کے مقابل دوسرے علوم کو لانا ، سب کفر ہے ۔ اس پر نہ کوئی شک ہے اور نہ کوئی اختلاف ۔
ایمان کا حصہ ہے کہ ہم اللہ کو حاکم مطلق تسلیم کریں ، کیا ہم نے اللہ کو حاکم مطلق مانا ؟ اگر مانا تو اسکے احکامات کو نافذ نہ کرنا ، اسکی حاکمیت سے فرار نہیں ؟ اسکا مطلب تو یہی ہوا کہ ہم نے اسکی حاکمیت کو تسلیم نہیں کیا اور کیا یہ کفر نہیں ؟ اللہ نے اپنا ایک آئین ، دستور اور قانون نافذ کیا ۔ کیا ہم نے اس قانون ، آئین اور دستور کی پابندی کی ؟ اگر نہیں تو کیا اسے کفر نہیں کہیں گے ؟ ایمان کا لازمی جزو ہے کہ ہم اللہ کی ذات کو اپنا حاجت روا سمجھیں ، مانیں اور عمل کریں ۔ کیا ہم نے اپنی حاجات کی تکمیل دنیا کے ناخداوں سے وابستہ نہیں کر لیں ۔ اسکا اقرار بھی کرتے ہیں کہ فلاں لیڈر ہماری ضروریات پوری کرے گا ، اسکے لئے اعلان بھی کرتے ہیں اور عملی جدوجہد بھی کرتے ہیں ۔ کیا یہ عمل ایمان سے متضاد نہیں ؟ اگر متضاد ہے تو کیا اسے کفر کہا جا سکتا ہے ؟
ہماری سوچ کا محور صرف اپنے اپنے عقائد کے خلاف عقائد کو کافر کہنے تک محدود ہے ۔ ایمان اور کفر کا اصل تعلق اپنے اپنے اعمال کے ساتھ ہے ، جسے ہم بھول چکے اور صرف یہ ڈھونڈھنے میں لگے رہتے ہیں کہ کس کس کو کافر کہا جا سکتا ہے ۔ اللہ نے تو ہم سے پہلی امتوں کو کم تولنے پر ، نبی کی تعلیمات سے اختلاف پر ، ناحق قتل و فساد پر اور اسی طرح سے کئی معاشرتی احکامات سے انکار پر کافر بھی کر دیا اور عذاب بھی کر دیا ۔ ہم بیشمار معاشرتی جرائم کرتے ہیں اور سوچتے بھی نہیں کہ اللہ کے حکم سے سرتابی کر رہے ہیں ، نبی کی تعلیمات سے انکار کر رہے ہیں اور یہ دونوں عمل کفر ہیں ۔ مجھے اور آپکو اپنا اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اور اپنی اپنی لغزشوں پر دیکھنا ہو گا کہ ہم خود کفر کے جرم میں تو شامل نہیں ۔ اور یہ ہمیں کسی بھی دوسرے کو کافر کہنے سے پہلے کئی بار سوچنا ہو گا ۔ جب یہ سوچنے لگیں گے تو اپنا محاسبہ ہو گا ، مفاہمت کی فضا قائم ہو گی ۔ امن پھیلے گا ۔ گمراہی چھٹے گی ۔ یہی ایمان ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٠ مئی ٢٠١٨
Monday, 14 May 2018
کیا یہ کفر نہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment