Wednesday, 27 June 2018

بیٹیوں کو اس آگ میں مت جھونکو

" بیٹیوں کو اس آگ میں مت جھونکو "
سیاست میں موجودہ رحجان ، انتہائی اخلاقی پستی کیطرف بڑھ رہا ہے ۔ نظریات کی سیاست کلی طور پر دفن ہوگئی ہے ۔ اب صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ کرسی تک پہنچنے میں جو رکاوٹ ہے اسے توڑنا کیسے ہے ۔ وہ دور بھی گذر گیا جب ماں ، بہن اور بیٹی کا احترام ہوا کرتا تھا ۔ کسی بھی خاتون پر کہا ہوا ایک بیہودہ لفظ بہت بڑی برائی تھی ۔ اب حالت یہ ہے کہ جو بھی خواتین سیاست میں ہیں ، شاید کوئی ایسی ہو جس پر کیچڑ نہ اچھالا گیا ہو ۔ اب سیاست کردار کشی اور بے سروپا کہانیوں کے سوا کچھ نہیں ۔ وہ لوگ جو خاندانی روایات کو سینے سے لگا کر سیاست کرتے تھے ، اب انکی نسلیں بھی بازاری لب و لہجے سے گفتگو کرتی ہیں ۔ اس سیاسی دھکم پیل میں خاتون اور مرد ایک طرح سے ہانکے جانے لگے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں اترنے والی بیشتر خواتین بھی ایسا لب ولہجہ اختیار کر لیتی ہیں ۔ جو کبھی کوٹھوں پہ بولا جاتا تھا ۔ اس سیاست میں  کونسی سیاست دان خاتون ہے جس کے دامن پر گندگی کے داغ نہیں لگائے گئے ۔
ابھی ایک معصوم سی بچی کو اپنے اسیر باپ کی سیاسی مہم کیلئے چیختے سنا ۔ ہوسکتا ہے کہ اس سیاستدان کی نرینہ اولاد نہ ہو ۔ جو اس کیلئے میدان میں آتی ۔ ایسی صورت میں بھی ، یہ کونسا قرآن کا حکم تھا کہ الیکشن ضرور لڑنا ہے ، بھلے معصوم بیٹی کو ہی اس آگ میں کیوں نہ جھونکنا پڑے ۔ عزت دار تو کسی بڑی سے بڑی آفت پہ بیٹیوں کو گھر کے آنگن سے نکلنے پر راضی نہیں ہوتے ۔
یہ بچی ، کن لوگوں کے جلو میں ، الیکشن کمپین چلائے گی ؟  کیا اسکے بھائی اسکے دائیں بائیں ہونگے یا نعرے لگانے والے شیدا اور فیقا ؟ ۔ کیا یہ سوچنا باپ اور بھائی کا کام نہیں تھا ۔ کون نہیں جانتا کہ سیاست کے کارکن کس مزاج کے لوگ ہوتے ہیں ۔ کس نے نہیں دیکھا کہ بڑے بڑے دھرنوں میں کیا طوفان بد تمیزی ہوتا ہے ۔ ہمارا دین تو اس اختلاط کی قطعی اجازت نہیں دیتا ۔ پھر اس سیاست دان کی ایمانی حالت کیا ہوگی ۔ کیا اس مزاج کے بندے کو ہمارا قانون ساز ہونا چاہئے ؟ افسوس تو اس پارٹی کے قائدین پر ہے ، جو نظریات سے عاری ہیں اور خواتین کو گھروں سے نکال کر بازاروں اور میدانوں میں لانے پر تلے ہیں ۔
خدا را ، یہ رحجان قابل ستائش نہیں ۔ اسکو پروان مت چڑھاو ۔ بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں ۔ انکو گندگی سے دور رکھو ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ جون ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment