" عمران خان ! اقتدار پھر بھی نہ ملا تو ؟ "
ایک کلپ دیکھی ، جس میں عمران خان جیسا شخص ، جو ساری عمر یورپ کے آزاد ماحول کا رسیا تھا ۔ میں نہیں سمجھتا کہ اسکی زندگی کا ایک پہلو صالح مسلمان کیطرح بھی رہا ہوگا ۔ ایسا مسلمان جو زنا اور شراب کے قریب نہ پھٹکا ہو ۔ کلبوں میں نہ گیا ہو ۔ تھر تھراتے جسموں سے محظوظ نہ ہوا ہو ۔ عمر کے اس دور میں جب پیسہ بھی ہو ، روکنے والا بھی کوئی نہ ہو ، روشنیاں خود قدموں سے لپٹیں ۔ تو صرف اللہ کا ولی بچ سکتا ہے ، عام مسلمان کا بہکنا کوئی بڑی بات نہیں ۔
اقتدار کی ہوس کا یہ عالم کہ جو جبین صرف اللہ کے سامنے جھکنی چاہئیے تھی ، تم نے ایک قبر کے سامنے زمین پر رکھدی ۔ ایک لمحے کیلئے نہیں سوچا ، کہ عزت و توقیر دینے والا رب ، اپنی ذات سے شرک کرنے پر کتنا ناراض ہو گا ۔ تم نے ایک شیطان کی بات مان لی ۔ اور اپنے رب کو ناراض کر دیا ۔ کتنے بد بخت ہو ۔ کتنے بد دیانت ہو ۔ کتنے حریص ہو ۔ سوچو ! توبہ کرو شاید قبول ہو جائے ۔ وگرنہ اللہ کا ہاتھ اٹھ جائے تو صدام پھانسی پہ چڑھ جاتا ہے ، بھٹو کے گلے میں رسی پڑ جاتی ہے ، قذافی گٹر میں گھسیٹ گھسیٹ کر مار دیا جاتا ۔ فرعون کی لاش کو عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ۔
تم نے ایک لمحے کیلئے بھی نہیں سوچا کہ اگر اقتدار نہ ملا تو ؟
اگر مل گیا اور کرسی پر بیٹھنا عذاب ہو گیا تو؟
تم نے دنیا بھی کھو دی اور آخرت بھی برباد کر دی ۔ اب تو شاید یہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا کہ یہودیوں کے در پہ جھکنا بھی بعید از قیاس نہیں ۔ شاید لوگ ٹھیک ہی کہتے ہونگے ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ جون ٢٠١٨
Thursday, 28 June 2018
اقتدار پھر بھی نہ ملا تو؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment