" صادق اور امین "
ایک محترم دوست کے چند جملے ادھار لے رہا ہوں ۔ لکھتے ہیں ۔
"صادق اور امین صرف پیسے کا معاملہ نہیں ہوتا ۔۔جو رب کی سچائی کو نہیں مانتا اور جو سجدے کی امانت کا خیال نہیں کرتا ایسے شخص کا پاکستان کے معاملات میں کوئی رول نہیں بنتا ۔۔بلکل یہی معاملہ باقی سب سیاستدانوں کے ساتھ بھی کیا جائے ۔"
چند الفاظ کا اضافہ شامل کرتا ہوں ، تاکہ سمجھنا مزید آسان ہو جائے ۔
اسوقت ایک پیمانہ رکھا گیا ہے ، جو از راہ تفنن ہے کہ ہر امیدوار سے " دعائے قنوت " سنی جاتی ہے ۔شاید یہ صاحب ایمان ہونے کا امتحان ہے جو جج صاحبان کو بتا دیا گیا ہے ۔ خیر موضوع " صادق اور امین " ہے ۔ جس جس نے عدالت کی پسند کے کوائف لکھدئیے اور جج قائل ہو گیا ، وہ امین بھی اور صادق بھی ۔ امین اور صادق اسلامی اصطلاحیں ہیں ، جن کا تعلق انسان کے کردار اور افعال کے ساتھ ہے ۔ ہم اسلام قبول کرنے پر اپنے رب سے وعدہ کرتے ہیں ، کہ اسکی ذات تمام اقتدار ، اختیارات اور امور کی حاکم و مالک ہے ۔ اسکے ہر حکم کی اطاعت اپنے اوپر فرض کر لیتے ہیں ۔ اسکی ذات کو اپنے ماں باپ اور اولاد پر فوقیت دینے کا اقرار کرتے ہیں ۔ وہ جسے گناہ کہہ دے اس سے رک جانا لازم و ملزوم ہے ۔ جو کرنے کا حکم دے اس سے جان چھڑانے کے حیلے نہیں کر سکتے ۔ اللہ سے کئے گئے وعدے امانت ہیں ۔ اگر ہم نبھائیں گے تو امین ہونگے ۔ یہی صداقت ہے اپنائیں گے تو صادق بنیں گے ۔
اب کتنے سیاست دان صادق اور امین رہ جاتے ہیں ۔
دراصل ہم نے عدالتی صداقت اور امانت کے معیار ہی کو اصل مان لیا ہے ۔ عدالت کی تشریح فلاح کیطرف نہیں بلکہ جھوٹ اور بددیانتی کو چھپانے کا ہنر ہے ۔ جو ہنر جانتا ہے وہ صادق بھی ہے اور امین بھی ۔ حالانکہ اپنے رب سے جھوٹ بولنے والا صادق نہیں ہو سکتا اور اپنے رب کے احکامات میں کوتاہی کرنے والا امین نہیں ہو سکتا ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ جون ٢٠١٨
Thursday, 28 June 2018
صادق اور امین
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment