اللہ کی بے آواز لاٹھی "
کیا یہ ہمارے کرپٹ حکمران صرف آزاد خیال اور سیکولر ذہن رکھنے والوں کے ووٹوں سے اقتدار میں آتے ہیں ۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں ۔ ہم سب کسی نہ کسی طرح اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
ہم سب جانتے ہیں کہ جس طرز حکومت کو ہم نے پروان چڑھایا ہے ، اس کے ثمرات انتہائی گھناونے نکل رہے ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کی خواہش کرنے والا ہر شخص حریص اور لالچی ہوتا ہے ۔ خدمت کا جذبہ الگ عمل ہے اور کرسی کی آرزو الگ عمل ۔
کس کو خبر نہیں کہ ہر سیاسی مداری کا کھیل کسی نہ کسی کرپشن پر ختم ہوتا ہے ۔ ہر دور میں مداری آتے رہے ، قوم کو نچاتے رہے اور قوم ناچتی رہی ۔ یہ ایک ہی عوام ہے جو کبھی بھٹو زندہ باد کہتی اور پھر بھٹو کی پھانسی پر مٹھائیاں بانئتی ہے ۔ یہ سارے سیاسی بہروپئے ،کبھی کسی کی گود میں اور کبھی کسی کی گود میں ۔ کون نہیں جانتا کہ اسکے علاقے کا ایم ۔ پی ۔اے ، ایم این اے ، ناظم یا چیئرمین مین کس قماش کا ہے ۔ کون واقف نہیں کہ ہمارے کتنے لیڈر ، شرابی ہیں ، کتنے زانی ہیں ، کتنے رسہ گیر ہیں ، کتنے نا اہل ہیں ، کتنے اخلاق باختہ ہیں ۔ سب جانتے ہیں ،کہ یہ تمام ہمارے خون سے اپنے چراغ جلاتے ہیں ، سب جانتے ہیں کہ انکی لمبی لمبی گاڑیوں میں ہمارا خون جلتا ہے ۔ مگر پھر انہی کو حاکم مان لیتے ہیں ۔ یہ سب مکافات عمل ہے ۔
ہم نے اللہ کا نظام چھوڑا ، اور یہود کا نظام آخری منزل مان لیا ۔ آج کتنے ہیں ، جو اس بات پر قایل ہیں کہ ہمارے پاس جمہوریت کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ۔ وہ بھی شامل ہیں جو صحابہ کے نظام حکومت کو دنیا کا مثالی نظام کہتے ہیں ، مگر تقلید جمہوریت کی کرتے ہیں ۔ وہ بھی ہیں جو شہادت حسین کو دین بچانے کا عمل مانتے ہیں ، مگر ووٹ یزیدی خصلت والوں کو دیتے ہیں ۔ وہ بھی ہیں جو اپنے نام کے ساتھ اسلامی جوڑے بیٹھے اور آبیاری یہودی کے نظام کی کر رہے ہیں ۔
یہ سب اللہ کی وہ بے آواز لاٹھی ہے کہ اب سب اس بد دیانت قائدین سے جان چھڑانا چاہتے اور جان نہیں چھوٹ رہی ۔ اگر ہم نے اب بھی راہ نہ بدلی تو اگلے مراحل اور بھی جان لیوا ہونگے ۔
ازاد ھاشمی
کیا یہ ہمارے کرپٹ حکمران صرف آزاد خیال اور سیکولر ذہن رکھنے والوں کے ووٹوں سے اقتدار میں آتے ہیں ۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں ۔ ہم سب کسی نہ کسی طرح اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
ہم سب جانتے ہیں کہ جس طرز حکومت کو ہم نے پروان چڑھایا ہے ، اس کے ثمرات انتہائی گھناونے نکل رہے ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کی خواہش کرنے والا ہر شخص حریص اور لالچی ہوتا ہے ۔ خدمت کا جذبہ الگ عمل ہے اور کرسی کی آرزو الگ عمل ۔
کس کو خبر نہیں کہ ہر سیاسی مداری کا کھیل کسی نہ کسی کرپشن پر ختم ہوتا ہے ۔ ہر دور میں مداری آتے رہے ، قوم کو نچاتے رہے اور قوم ناچتی رہی ۔ یہ ایک ہی عوام ہے جو کبھی بھٹو زندہ باد کہتی اور پھر بھٹو کی پھانسی پر مٹھائیاں بانئتی ہے ۔ یہ سارے سیاسی بہروپئے ،کبھی کسی کی گود میں اور کبھی کسی کی گود میں ۔ کون نہیں جانتا کہ اسکے علاقے کا ایم ۔ پی ۔اے ، ایم این اے ، ناظم یا چیئرمین مین کس قماش کا ہے ۔ کون واقف نہیں کہ ہمارے کتنے لیڈر ، شرابی ہیں ، کتنے زانی ہیں ، کتنے رسہ گیر ہیں ، کتنے نا اہل ہیں ، کتنے اخلاق باختہ ہیں ۔ سب جانتے ہیں ،کہ یہ تمام ہمارے خون سے اپنے چراغ جلاتے ہیں ، سب جانتے ہیں کہ انکی لمبی لمبی گاڑیوں میں ہمارا خون جلتا ہے ۔ مگر پھر انہی کو حاکم مان لیتے ہیں ۔ یہ سب مکافات عمل ہے ۔
ہم نے اللہ کا نظام چھوڑا ، اور یہود کا نظام آخری منزل مان لیا ۔ آج کتنے ہیں ، جو اس بات پر قایل ہیں کہ ہمارے پاس جمہوریت کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ۔ وہ بھی شامل ہیں جو صحابہ کے نظام حکومت کو دنیا کا مثالی نظام کہتے ہیں ، مگر تقلید جمہوریت کی کرتے ہیں ۔ وہ بھی ہیں جو شہادت حسین کو دین بچانے کا عمل مانتے ہیں ، مگر ووٹ یزیدی خصلت والوں کو دیتے ہیں ۔ وہ بھی ہیں جو اپنے نام کے ساتھ اسلامی جوڑے بیٹھے اور آبیاری یہودی کے نظام کی کر رہے ہیں ۔
یہ سب اللہ کی وہ بے آواز لاٹھی ہے کہ اب سب اس بد دیانت قائدین سے جان چھڑانا چاہتے اور جان نہیں چھوٹ رہی ۔ اگر ہم نے اب بھی راہ نہ بدلی تو اگلے مراحل اور بھی جان لیوا ہونگے ۔
ازاد ھاشمی
No comments:
Post a Comment