Monday, 28 May 2018

گورے کا بچہ اور ہمارا بڈھا

" گورے کا بچہ اور ہمارا بڈھا "
ایک صاحب نے بڑے جلی حروف میں پوسٹ لگائی ہے کہ
" گورے کا بارہ سال کا بچہ ہمارے باسٹھ سال کے بوڑھے سے زیادہ شعور رکھتا ہے ۔ "
افسوس اس بات کا نہیں کہ اس محترم نے کیوں لکھا ، کیا ایسے تجربات انکے ذہن میں آئے کہ انہیں گورے کے بچے کو شاباشی دینی پڑی ۔ اور اپنے باسٹھ سال کے بوڑھے کو بتانا پڑا کہ تم ابھی تک " للو " ہو ۔ دیکھو ، گورے کا بچہ تم سے آگے نکل گیا ۔
لگتا ہے کہ موصوف کی ساری زندگی یورپ کی ہوا کھاتے گزر گئی ۔ اپنے بزرگوں کی جہالت کی وجہ سے موصوف دنیا کے سامنے شرمندہ ہیں اور اپنے اردگرد کے بڈھوں کا ضمیر جنجھوڑ رہے ہیں ۔
گورا یقینی طور پر بہت آگے نکل گیا ۔ آزاد ہو گیا ، روشن خیال ہو گیا ، ماں باپ سے ایک مدت جڑا رہتا ہے اور جب ماں باپ کو اسکی ضرورت ہوتی ہے تو الگ ہو جاتا ہے ۔ اسے شعور آجاتا ہے کہ اسکی اپنی زندگی ہے ، جسکا بھرپور لطف اٹھانا  چاہئے ۔ اسے مشینی دور کی ہر ایجاد پر عبور ہو جاتا ہے ۔ وہ اپنی زبان فر فر بول لیتا ہے ۔ اور ہمارا باسٹھ سال کا بڈھا وہی مادری زبان پر جڑا رہتا ہے ۔ وہی لباس جو اسکے معاشرے نے اسے دیا ہوتا ہے ۔ موبائل فون پر ننگی فلمیں بھی ڈاون لوڈ نہیں کر سکتا ۔ ٹھیک کہا موصوف نے ۔
میں صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں ، کیونکہ میں خود بھی چونسٹھ سال کا بڈھا ہوں ۔ کچھ نہیں سیکھ سکا ۔ ابھی تک بچوں کو وہی چودہ سو سال والی پرانی باتیں سکھانا چاہتا ہوں ۔ جب دنیا کی بہترین تہزیب کا دعویٰ کرنے والی قوم کے صدر کی حرکتیں دیکھتا ہوں ، تو اللہ کا شکر کرتا ہوں کہ میری ذہنی حالت ایسی نہیں ۔ جب چمچ اور کانٹا استعمال کرنے والوں کا دیکھتا ہوں کہ جائے حاجت کو ٹشو سے صاف کر کے کھانے کی میز پر بیٹھ جاتے ہیں ، تو انکی غلاظت سے گھن آتی ہے ۔ خوش ہوتا ہوں کہ میں اپنی ثقافت میں زندہ ہوں اور ثقافت میں دفن ہو جاوں گا ۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے اپنی نسل کو اعلی تعلیم دی اور آج وہ میری خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں ۔
میرے جیسے تمام بڈھے موصوف کی علمیت سے آزردہ نہ ہوں ۔ ہماری بے شعوری مغرب کے شعور سے بہتر ہے۔
ازاد ھاشمی
28 مئی 2017

No comments:

Post a Comment