" یہ کیسا روزہ تھا "
گرمی کی شدت میں ، چند گھنٹے کی پیاس جو اثرات مرتب کرتی ہے ۔ اس سے پانی کی ایک ایک بوند کی قیمت کا احساس ہوتا ہے ۔ سامنے ایک مخصوص وقت پر اللہ کی نعمتیں ملنے کا یقین پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے ۔
روز ایک سوال ذہن میں آتا ہے ، روز ایک احساس جاگتا ہے ، ایک داستان دماغ پر گردش کرتی ہے کہ کربلا کی زمین پر ، بہتے ہوئے فرات کے کنارے ، آگ برساتا ہوا سورج ، تپتی ہوئی ریت ، معصوم بچے ، پردہ دار بیبیاں ، نہ کھانے کو ایک لقمہ ، نہ پینے کو ایک بوند ۔ کیسا روزہ تھا ۔ نہ سحری نہ افطار ۔ کائنات کے مالک کے بے سروسامان جگر گوشے , ایک دن نہیں ، دو دن نہیں پورے تین دن کا روزہ ۔ بوڑہوں کا بھی روزہ ، جوانوں کا بھی اور شیر خوار بچوں کا بھی ۔
کربلا میں امام حسین ع کا عظیم سجدہ ، ایسا بے مثل سجدہ کہ قیامت تک نہ کسی نے کیا ، نہ کوئی کرے گا ۔ کربلا میں معصوم بچوں نے جیسا روزہ رکھا کہ نہ بھوک پر تڑپے ، نہ پیاس پر روئے ، قیامت تک نہ کسی نے رکھا نہ کوئی رکھے گا ۔
ازاد ھاشمی
یکم جون 2017
Friday, 1 June 2018
یہ کیا روزہ تھا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment