Friday, 1 June 2018

یہ کیا روزہ تھا

" یہ کیسا  روزہ تھا "
گرمی کی شدت میں ، چند گھنٹے کی پیاس جو اثرات مرتب کرتی ہے ۔ اس سے پانی کی ایک ایک بوند کی قیمت کا احساس ہوتا ہے ۔ سامنے ایک مخصوص وقت پر اللہ کی نعمتیں ملنے کا یقین پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے ۔
روز ایک سوال ذہن میں آتا ہے ، روز ایک احساس جاگتا ہے  ،  ایک داستان دماغ پر گردش کرتی ہے کہ  کربلا کی زمین پر ، بہتے ہوئے فرات کے کنارے ، آگ برساتا ہوا سورج ، تپتی ہوئی ریت ، معصوم بچے ، پردہ دار بیبیاں ، نہ کھانے کو ایک لقمہ ، نہ پینے کو ایک بوند ۔ کیسا روزہ تھا ۔ نہ سحری نہ افطار ۔ کائنات کے مالک کے بے سروسامان جگر گوشے  , ایک دن نہیں ، دو دن نہیں پورے تین دن کا روزہ ۔ بوڑہوں کا بھی روزہ ، جوانوں کا بھی اور شیر خوار بچوں کا بھی ۔
کربلا میں امام حسین ع کا عظیم سجدہ  ،  ایسا بے مثل سجدہ کہ قیامت تک نہ کسی نے کیا ، نہ کوئی کرے گا ۔ کربلا میں معصوم بچوں نے جیسا روزہ رکھا کہ  نہ بھوک پر تڑپے ، نہ پیاس پر روئے ، قیامت تک نہ کسی نے رکھا نہ کوئی رکھے گا ۔ 
ازاد ھاشمی
یکم جون 2017

No comments:

Post a Comment