Monday, 28 May 2018

بابا چریا کا فلسفہ

" بابا چریا کا فلسفہ "
زندگی کی مجبوریاں اور قدرت کے فیصلے ، کبھی کبھی ایک ہوشمند شخص کو بھی " چریا " بنا دیتے ہیں ۔ بعض مزاج ، زندگی کو مل جل کر لطف اندوز ہونے کو پسند کرتے ہیں اور امارت غربت کے درمیان کی دیواریں گرانے میں راحت محسوس کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے سپاٹ چہروں پہ کوئی بناوٹ نہیں ہوتی ۔ دل میں کوئی غرض نہیں ہوتی ۔ پرائے درد کو بھی اپنا درد ہی سمجھتے ہیں ۔ ایسے لوگ زبان کے کڑوے ہوتے ہیں ۔ اسلئے آہستہ آہستہ معاشرہ انہیں کاٹ کر الگ کر دیتا ہے ۔ بابا چریا انہی لوگوں میں سے ایک کردار ہے ۔ بات میں دلائل کا وزن رکھنے والے سے ہر اخباری دانشور پہلو بچاتا ہے ۔ یہی حال کچھ بابا چریا کے ساتھ ہے ۔ بدیش میں کئی مزاجوں کے لوگ برادری کی شکل میں مل بیٹھتے ہیں ۔ کچھ کو چار سکے کمانے کیلئے خون پسینہ ایک کرنا پڑتا ہے ۔ اور پردیس  کی دھوپ چھاوں کی شدت بھی جھیلنا پڑتی ہے ۔ سٹیٹس کے اعتبار سے یہ دوسرے اور تیسرے درجے کے لوگ ہوتے ہیں ۔ کچھ اچھی نوکری کیوجہ سے زندگی کی وہ آسائشیں بھی حاصل کر لیتے ہیں جو وطن میں انکے باپ دادا نے بھی نہیں دیکھی ہوتیں ۔ یہ اول درجے کے لوگ ہوتے ہیں ۔ اور ان میں سے چند خاندانی وقار بھی رکھتے ہیں ۔ جن کا رویہ قدرے مختلف ہوتا ہے ۔ مگر جن کو دولت کی دیوی کا نیا نیا درشن ہوتا ہے ، انہیں دوسرے درجے کے انسانوں سے بدبو بھی آتی ہے اور انہیں جاہل بھی سمجھا جاتا ہے ۔ بابا چریا بھی انہی دوسرے طبقے کا ایک خود سر کردار ہے ۔ جو نہ پہلے درجے کے لوگوں سے مرعوب ہوتا ہے اور نہ دوسرے درجے کے ہم وطنوں سے نالاں ۔ آج بابا چریاکا سخت امتحان تھا ۔ جب ایک افطار میں اسے دیکھ کر خوش باش خاتون کو اچھا نہیں لگا ۔
" اس خبطی کو بھی بلانا تھا تو ہمیں بتا دیتے " میزبان سے کہتے ہوئے ، وہ محترمہ بابا چریا کے پاس سے گزری ۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ بابا کی زبان گنگ تھی اور آنکھیں بوجھل ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے ۔ کس سے کہے ۔ کیونکہ وہ اکیلا تھا جو اس " بڑوں کی افطاری " میں موجود تھا ۔
" کیا ہوا یار ! کیوں اداس ہو ۔ " ساتھ بیٹھے کسی اچھی ماں کی گود میں پلے امیر زادے نے پوچھ لیا ۔
" کچھ نہیں بیٹا ۔ بس اپنے خبط سے نفرت کا بیج اگ پڑا ہے دل میں ۔ لوگوں کیلئے سوچتا تھا ، بول پڑتا تھا ۔ اب سوچ رہا ہوں ، کبھی نہیں سوچوں گا ، کبھی نہیں بولوں گا ۔  یہ غریب لوگ میرے کیا لگتے ہیں "
آنکھوں سے دو بڑے قطرے گالوں پر بہہ نکلے۔
" یہ ضرورت مند لوگ مجھ خبطی کو آواز دیتے ہیں ۔ میں بھاگ پڑتا ہوں ۔ سمجھتا ہوں کہ اللہ کتنا کریم ہے ، اتنے بڑے بڑے لوگوں میں سے مجھ خبطی کو اپنے بندوں کی خدمت کیلئے چن لیتا ہے ۔ یہ اسکا کرم ہے اور میں اپنے رب کا حکم سمجھ کر بھاگ پڑتا ہوں ، اپنی اکھڑتی سانس کا بھی خیال نہیں کرتا ہوں کہ اللہ یہ اعزاز کسی اور کو نہ دے دے  "
بابا جی نے لمبی سانس لی ۔ اور گلوگیر ، رندھی ہوئی آواز میں بولنے لگے ۔
" بیٹا ! مجھے پتہ ہے کہ اس امیر زادی کی تربیت میں بہت جھول ہے ۔ یہ کسی اونچے گھرانے سے بھی نہیں ۔ دولت کا خمار اسکے حواس پر سوار ہے ۔ اسے پتہ ہی نہیں کہ احترام کیا ہوتا ہے ۔ اس کو پتہ ہی نہیں کہ عزت قرض ہوتا ہے ۔ آج دو گے تو کل واپس ملے گا ۔ نہیں دو گے تو کیا لوگے ۔ "
ابھی افطار میں وقت باقی تھا ۔ باباجی نے اپنی عینک اٹھائی اور لان سے باہر نکل گئے ۔
آزاد ھاشمی
٢٣ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment