" جرنیل یا سپاھی "
جرنیل جب سپاہی کی وردی پہن کر اور سپاہی بن کر سوچتا ہے تو ہاری ہوئی جنگ بھی فتح میں بدل جاتی ہے ۔ اور جب وہ جرنیل کی وردی سے باہر آکر سپاہی بننا پسند نہیں کرتا ، تو جنگیں کبھی نہیں جیتی جاتیں ۔
ہم اگر اسی تناظر میں دیکھیں تو ١٩٦٥ کی جنگ ، سپاہیوں نے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر جیتی تھی ۔ اور ١٩٧١ کی جنگ ، جرنیل نے دشمن کے سامنے لیٹ کر ہار دی تھی ۔ اگر وہ سپاہی بن جاتا ، تو اسے معلوم ہوتا کہ ابھی تک اسکے جوانوں نے نہ ہمت ہاری ہے اور نہ جذبہ کھویا ہے ۔ سپاہی اپنے اپنے حصے کی گولیاں چلانے کیلئے بھی تیار تھے اور گولی کھانے کیلئے بھی ۔ اگر جرنیل بھی اپنے حصے کی ایک گولی کھانے کا حوصلہ پیدا کر لیتا تو دشمن کے بدن پر اتنے زخم آتے کہ قیامت تک یاد رکھتا ۔ مگر ہمارے جرنیل ، فوجی کم اور سیاستدان زیادہ ہیں ۔ اپنی سرحدوں پر اتنی نظر نہیں رکھتے ، جتنی سیاسی معاملات پر ۔ اگر سرحدوں پر نظر ہوتی تو دہشتگردی کا بھوت کبھی پاکستان میں داخل نہ ہوتا ۔ یہ وہ امر ہے جسے تسلیم کر لیا جائے تو حل نکل آئے گا ۔
ہمارا جوان دشمن کے آگے سینہ کرتے ہوئے کبھی خوفزدہ نہیں ہوتا ۔ سرحدوں پہ ، وطن کیخاطر جب بھی خون کی ضرورت پڑی ، جوانوں نے کبھی دو لمحے کیلئے بھی نہیں سوچا ۔ یہ جوان ہیں ، جنہیں فوج کہا جاتا ہے ۔ اب لوگ فوج پر نالاں نظر آتے ہیں ۔ اسکی وجہ جرنیل ہیں ۔ گویا جوانوں کی ساری جرات اور بہادری کا تاثر زائل کرنے والے چند جرنیل ہیں ۔ مگر ابھی بھی بیشمار جرنیل ، سپاہی بن کر خدمت کر رہے ہیں ۔ مگر قوم کو فوج سے عناد بڑھنے لگا ہے ۔ جوکہ ناقابل معافی زیادتی ہے سپاہیوں کی خدمت ، قربانی اور عزم و حوصلے کی ، کیونکہ فوج سپاہیوں سے بنتی ، جرنیل تو چند ہوتے ہیں ۔
خوفزدہ سیاستدان ، جرنیلوں کو زمینیں بھی دیتے ہیں ، ریٹائرمنٹ کے بعد اعلی نوکریاں بھی اور اولاد در اولاد مراعات بھی ۔ مگر ایک سپاہی کو اور اسکی شہادت پر اسکے لواحقین کو کیا ملتا ہے ؟ یہ ایک فکر انگیز لمحہ ہے ، جسے نہ کبھی سیاستدان سوچتا ہے اور نہ حکمران ۔ جبکہ ملک کے لئے مقبول حسین اپنی زبان کٹوا دیتا ہے ، کچھ نہیں بولتا اور اسد درانی ملک سے بے حساب مراعات وصول بھی کرتا رہا اور ملک کے خلاف لکھ کر ثبوت بھی دیتا ہے ۔ ایسے جرنیل سے ایک سپاھی بہتر بھی ہے اور عظیم بھی ۔ اگر ملک کا استحکام عزیز ہے تو صلہ خدمت کے مطابق ملنا چاہئیے اور انعام بھی قربانی کے مطابق ۔ جرنیل کو بھی سپاہی بن کر سوچنا ہو گا ، مطلق العنان افسر بن کر نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ مئی ٢٠١٨
Monday, 28 May 2018
جرنیل یا سپاہی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment