Thursday, 31 May 2018

اللہ سے پوچھوں گا

" اللہ سے پوچھوں گا ؟ "
بہت دیر سے وہ مسجد کے سامنے ، فٹ پاتھ پہ بیٹھا شخص ، اپنی معصوم سی بیٹی کو بار بار سینے سے لگاتا اور پھر آنسو پونچھنے لگتا ۔ میں یہ نظارہ بہت دیر سے دیکھ رہا تھا ۔ لباس اور وضع قطع سے وہ مفلوک الحال نظر آرہا تھا اور چہرے کے خط و خال میں وجاہت تھی ۔
" کیا بات ہے بھائی ۔ بہت دیرسے آپ اور بچی کو دیکھ رہا ہوں ۔ کوئی پریشانی ہے تو میں خدمت کو حاضر ہوں "
بیشتر اس سے کہ وہ کوئی جواب دیتا ۔ بچی بول پڑی ۔
" انکل ! آپ مولوی انکل ہیں ۔ یہ سامنے والی مسجد آپ کی ہے ؟ "
" نہیں بیٹا ۔ میں مولوی انکل نہیں ہوں اور یہ مسجد اللہ کی ہے ۔ ہم سب یہاں اللہ کی عبادت کرتے ہیں ۔  اللہ سے مانگتے ہیں اور اللہ ہماری بات سنتا ہے اور ہمیں بہت کچھ دیتا ہے "
میں نے بچی کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا ۔ 
" یہی تو میں ابا سے کہتی ہوں ۔ مجھے اماں نے بھی بتایا تھا کہ اللہ سے مانگو تو وہ ضرور دیتا ہے ۔ ابا سے کہہ رہی ہوں ، چلو مسجد میں اللہ سے مانگتے ہیں ۔ ہم روز تھوڑی تھوڑی روٹی کھاتے ہیں ۔ منا بھی روتا رہتا ہے اور مجھے بھی بھوک لگی رہتی ہے ۔ یہ ساتھ والے انکل روز کتوں کو کھانا ڈالتے ہیں ۔ ماں کہتی ہے اللہ نے انکو بہت دیا ہے ۔ میں اللہ سے پوچھوں گی ۔ آج میں اللہ سے بات کروں گی ۔اللہ سے کہوں گی کہ ہمیں اتنا تو دے دو کہ ہم بھی پیٹ بھر کے کھا لیں ۔  ابا میری بات نہیں مان رہا ۔ ابا کہتا ہے ابھی مسجد جانے کا وقت نہیں ہوا ۔ انکل آپ کو پتہ ہے کہ اللہ کس وقت مسجد میں ہو گا ؟ میں آج اللہ سے بات کر کے جاوں گی "
بچی بولے جارہی تھی اور باپ روئے جا رہا تھا اور میں شرمندگی کے احساس تلے دبا بیٹھا تھا ۔ کیونکہ جس گھر کی وہ بات کر رہی تھی ، وہ مسجد کے امام کا گھر تھا ۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ انسان کب سے کتوں سے بد تر ہو گیا ۔ ہمسائے کا تو حق سب سے اولین۔ہے ۔ اگر کسی جگہ کوئی ایک بھوکا سو جائے تو پورے محلے کی عبادت قبول۔نہیں ہوتی ۔ پھر امام صاحب اتنے بے خبر کیوں رہے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ بچی پھر بولی ۔
" انکل ! اللہ جی کب مسجد میں آئیں گے ۔ میں آج نہ منے کو بھوکا سونے دوں گی ، نہ ماں کو اور نہ خود ۔ ماں بتاتی ہے کہ اللہ کے پاس تو بہت کچھ ہے ۔ سب کو وہی دیتا ہے ۔ ابا اللہ سے مانگتا ہی نہیں اسی لئے ہمیں ملتا ہی نہیں۔ اگر آج ابا نہیں مانگے گا تو میں اللہ سے خود مانگوں گی اور  مسجد ہی میں بیٹھی رہوں گی جب تک بہت سارا کھانا لے نہیں لوں گی ۔ ہاں "
میری آنکھوں کے سامنے میری اپنی بیٹیوں کی تصویر گھوم رہی تھی ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر میری بیٹی ایسی حالت میں بولتی تو میرا کلیجہ پھٹ جاتا ۔ اس بیچارے کا کلیجہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہو گا ۔
" دوست ! آپ کیا کام کرتے ہو "
" راج کے ساتھ مزدوری کرتا ہوں بابو جی ۔ ایم اے کیا ہوا ہے ۔ نوکری نہیں ملی ۔ پیٹ کے جہنم کو بھرنے کیلئے مزدوری کرتا ہوں ۔ جو بھی مل جائے ۔ مشکل سے زندہ رہنے کا یہی وسیلہ ہے ۔ غربت نے کچھ سوچنے اور کرنے کی ہمت بھی چھین لی ہے ۔ اب مزدوری بھی روز نہیں ملتی ۔ مانگنے کی عادت نہیں ہے ۔ بس یہ چڑیل اتنی باتیں کرتی ہے ۔ آج سوچ کر یہاں آیا تھا ۔ نماز کے بعد مسجد کے باہر ہاتھ پھیلا دوں گا ۔ مگر ہمت نہیں ہوئی تو یہاں آ کر بیٹھ گیا ۔ "
میرا دل بھی پگل گیا ۔ میرے بھی آنسو بہہ نکلے ۔ مجھے بھی اللہ سے شکایت کرنے کی تڑپ ہوئی ۔
" اے اللہ یہ بھی تو تیرے بندے ہیں ۔ انکو ایسے کیوں بھولے بیٹھا ہے ۔ "
میں نے بھی ارادہ کیا کہ آج اللہ سے پوچھوں گا ۔
آزاد ھاشمی
٣١ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment