"عہد شکنی کی دوسری شکل( ٥ )"
ہم نے اللہ سے کئے ہوئے عہد کو برقرار نہیں رکھا ۔ ہم غور سے دیکھیں تو ہمارے معاشرے میں کئے گئے بہت سارے عہد توڑے جاتے ہیں اور یہ وہ عمل ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔ اللہ کے نبیؐ نے بہت بار فرمایا ۔
" جس شخص کے اندر ایفائے عہد نہیں اس کاد ین نہیں ہے۔"
یہ بھی فرمایا کہ منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ
"جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے "
ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جس معاشرہ میں وعدہ خلافی عام ہوجائے اس معاشرہ میں بغض اور فساد عام ہوجاتا ہے۔ تجارت ہو ، روز مرہ کا لین دین ہو ، یا دیگر معاشرتی معاملات ہوں ، ایفائے عہد انتہائی بنیادی کڑی ہے جو ہر طرح کی بہتری کی ضامن ہوتی ہے ۔
ایک عجیب سا رحجان جنم لے چکا ہے جسے عام فہم لفظوں میں پالیسی کہا جاتا ہے ، وہ تجارت میں ہو ، سیاست میں ہو یا عام معاشرتی معاملات میں ہو ، اسے صرف ذاتی مفاد تک محدود رکھا جانے لگا ہے ، کسی بھی وعدے سے مکر جانا ، عام سی بات بن کر رہ گئی ہے ۔ جبکہ مذہبی طور پر اس پر اللہ تعالیٰ کیطرف سے سخت تاکید بھی ہے اور انحراف پر سخت وعید بھی ۔ اس عہد شکنی نے معاشرے میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے ، اسکی ایک شکل بدامنی ، دوسری شکل افلاس اور تیسری شکل بد اعتمادی ہے ۔
المیہ یہ ہے کہ قومی قائدین عوام سے کئے جانے والے بیشتر وعدوں کو سیاسی ضرورت سمجھتے ہیں اور جانتے ہوئے کہ جو وعدے وہ کر رہے ہیں ، پورے کرنا ممکنات میں سے نہیں ۔ یہ وہ فساد ہے جو پوری قوم کو متاثر کرتا ہے اور جو زیادہ جھوٹ بولتا ہے وہ جیت جاتا ہے اور پوری قوم نقصان اٹھاتی ہے ۔ یہ وہ فساد ہے جس سے آج ہم بری طرح نبرد آزما ہیں ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
٦ نومبر ٢٠١٨
Wednesday, 7 November 2018
عہد شکنی کی دوسری شکل ( 5)
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment