Saturday, 10 November 2018

اے اللہ ! کیوں نہیں دیتا مجھے

" اے اللہ ! کیوں نہیں دیتا مجھے ؟"
عمر رسیدہ شخص ، بار بار سر پہ ہاتھ مارتا اور چیخ چیخ کر کہتا ۔
" کیوں نہیں دیتا مجھے ۔ کیا تیرے خزانے خالی ہو گئے ہیں ۔ کیوں نہیں دیتا مجھے "
علاقے میں اسے عزت و تکریم حاصل تھی ۔ علم و آگہی سے بھی آراستہ تھا ، تحمل اور بردباری سے بھی اللہ نے نواز رکھا تھا ۔ مگر آج اسکی عجیب کیفیت تھی ۔ اللہ سے سوال نہیں کر رہا تھا ، گویا اللہ سے جھگڑ رہا تھا ۔ لہجہ انتہائی گلو گیر بھی تھا اور سوال کرنے کے طریقے میں عجیب سی شکایت تھی۔
" تو سب جانتا ہے ، پھر تجھے میرے دل کی خبر کیوں نہیں ۔ مانگ مانگ کر تھک گیا ہوں ۔ جو نہیں مانگتے انکو دئیے جاتا ہے ، میں مانگتا ہوں تو کیوں نہیں دیتا مجھے "
ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے  بابا پاگل ہو گیا ہے ۔
" کفر بول رہے ہو بڑے میاں " باریش شخص نے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
" جانتا ہوں تیری نظر میں کفر ہے ۔ اپنے رب سے بات کر رہا ہوں ۔ اس رب سے جو میری شہ رگ سے قریب ہے ۔ اتنا قریب ہو کر نہیں سنے گا تو لڑائی تو بنے گی نا ۔  کہتے ہیں اللہ اپنے بندے سے ستر ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے ، کیوں مولوی صاحب لوگ کہتے ہیں نا؟  "
بابا جی نے باریش شخص سے پوچھا ۔
" جی سچ ہے " باریش شخص نے جواب دیا ۔
" میری ماں تو میری ہر ضد پوری کر دیتی تھی ۔ اللہ سے تو صرف ایک ہی ضد ہے کہ مجھے اتنا دے دے کہ تیرے بندوں کی خدمت کر سکوں ۔ میں کسی کو بھوک سے تڑپتا نہیں دیکھ سکتا ، کسی کو نہیں "
بابا جی نے پھر چیخنا شروع کر دیا
" تجھ سے ان کے لئے مانگتا ہوں ، تو سنتا ہی نہیں ۔ کیوں نہیں دیتا مجھے "
بابا جی نے ریسٹورنٹ کے باہر بھکاریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوا کہا ۔
درد کی ٹیس بہت گہری تھی ۔ یہ لہجہ کفر تھا ، گستاخی تھی ، ضد تھی ، لگن تھی یا امید ۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اللہ کا بندہ ، اپنے اللہ سے ، اللہ کے بندوں کیلئے مانگ رہا تھا ۔
میرے دل سے  بھی دعا نکلی ،
" اے قادر مطلق ! اس کی آرزو پوری کر دے ، اسکی سن لے ، اسکی کمزوریوں کو دیکھے بغیر اسکی دعا قبول کر لے ۔ اگر یہ اس خدمت کے اہل نہیں تو اسے اسکا اہل کر دے ۔ اگر میری کوئی نیکی تجھے پسند ہے تو اسکے صدقے میں اسے نواز دے ۔"
آزاد ھاشمی
٩ نومبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment