" انسان خسارے میں "
اللہ سبحانہ تعالی نے فرمایا
" بے شک انسان خسارے میں ہے "
اگر ایمان کی روشنی پر دنیا کی چکا چوند غالب ہو , تو اس حقیقت کو سمجھنا نا ممکن ہے . انسان جس ترقی پر پہنچ چکا ہے اور جس طرف جا رہا ہے , اس میں کوئی خسارہ نظر نہیں آتا . اور اگر ایمان کی روشنی نصیب ہو تو خسارے کا تجزیہ خود بخود ہو جاتا ہے .
آج جس برقیاتی دور سے ہم گذر رہے ہیں , جو کام مہینوں میں ہوتے تھے وہ چند گھنٹوں میں ہو جاتے ہیں . انگلی کی ہلکی سی جنبش سے جو معلومات درکار ہوں , وہ آپ کے سامنے سکرین پر آ جاتی ہے . یہ سب ترقی کے زاویے ہیں , جن پر ہم پیمائش کرتے ہیں .
مادیت کتنی بھی حاصل کر لی جائے - انجام کیا ہے .
اپنے اپنے عقیدے کے مطابق , مٹی میں دفن ہونا ہے , آگ میں جلایا جانا ہے یا چیل کووں کے سامنے ڈالا جانا ہے . ساری مادیت کا تعلق بس سانس کے چلنے تک ہے . جیسے ہی سانس رکی , ترقی اور مادیت سے بھری تجوریاں چھوڑنا پڑ جاتی ہیں . کتنا خسارہ ہے کہ جو کمایا اس پر حق ہی نہیں رہ جاتا . انگلی کے اشارے پر ملنے والی معلومات نے ہم سے سب کچھ چھین لیا . رشتے , تعلق , خلوص , غرضیکہ امن اور سکون پر بھی قابو نہیں رہا .
جو اصل متاع تھی , جس پر ہم اشرف المخلوقات تھے , جس پر اللہ نے ہمیں تخلیق کیا , جو ہماری روح کا ساتھی تھی . وہ اللہ کی یاد تھی . اللہ کی رضا تھی اللہ سے تعلق قائم رکھنے کی سعی تھی . سجدے تھے , رکوع تھے , تسبیحات تھیں , استغفار تھا , دعائیں اور التجائیں تھیں .
اب ان سب کا وقت سوشل میڈیا نے لے لیا . ایک انگلی کی جنبش پر آکر سب کچھ محو ہو گیا . کتنا بڑا خسارہ , کتنا بڑا نقصان .
یہ مادیت کا عروج ضرور ہے ، مگر اللہ سے تعلق کے زوال کا سبب بھی ۔ کبھی بیٹھ کے اللہ سے باتیں کرو ، جو سکون قلب ملے گا ، چاہے جتنی بھی ترقی ہو جائے اس سکون تک پہنچ نہیں پاتی ۔ حق سے دور ہو کر اگر آسمان کی وسعتیں ناپ بھی لی جائیں ، سمندر کی تہہ میں جھانک بھی لیا جائے ، کواکب و انجم کی گنتی بھی کر لی جائے ، تو انجام میں اللہ کی رضا سے محرومی ملے گی ۔ اسے خسارہ نہیں کہیں گے تو کیا سمجھیں گے ۔
ازاد ھاشمی
4 نومبر 2017
Monday, 5 November 2018
انسان خسارے میں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment