" فساد اور فسادی ( 1) "
فساد کا لفظ عام فہم میں لڑائی جھگڑے تک محدود کر دیا گیا ہے ۔ جب ہم فساد فی الارض کہتے ہیں تو قرآن میں اسکا نہایت وسیع مفہوم سامنے آتا ہے ۔ کسی بھی مربوط سلسلے کے اندر ایسی تبدیلی کی کوشش کرنا ، جس سے بہتری کی بجائے خرابی کا احتمال زیادہ ہو ، اسے فساد کہا جائے گا ۔ خواہ اسکا تعلق عقائد سے ہو ، مذہب سے ہو ، احکامات ربی سے ہو، ایمانیات سے ہو ، عبادات سے ہو ، معاشرتی زندگی سے ہو یا روز مرہ کے معاملات سے ہو ۔ چلتے ہوئے پانی کا رخ اسطرح موڑنا کہ دوسرے انسان اس سے استفادہ نہ کر سکیں ، فساد ہے ۔
سورہ بقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں خبردار ہو یقیناً یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں لیکن شعور نہیں رکھتے."
اس آیت کریمہ کو علماء اور مذہبی طبقے پر منطبق کیا جاتا ہے ۔ جو فساد کے مفہوم کو مبہم کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔ یہ بھی فساد ہی کی ایک شکل ہے ، کہ جو دین اور مذہب کیلئے اپنی ہر سعی استعمال کرتے ہیں ، انہیں الزام دیا جائے تاکہ وہ اس سعی سے دل برداشتہ ہو جائیں اور آزاد خیالی کا رحجان بغیر کسی رکاوٹ کے پروان چڑھتا جائے ۔ ہاں وہ لوگ جو مذہب کی آڑ میں انسانی اقدار اور مذہبی شعور کو ارادی طور پر خراب کر رہے ہیں ، فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں ۔
فساد فی الارض کی متعد دشکلیں اور قسمیں ہیں، اسکا تعلق عقائد واحکام سے بھی ہو سکتا ہے،تو عبادات معاملات اور اخلاق وسلوک میں بھی فساد واقع ہو سکتا ہے ۔ فساد کے مختلف پہلووں کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں ، تاکہ قرآن کا اس موضوع پر تکرار اور اہمیت سمجھ آ سکے .
۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔ ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٣ نومبر ٢٠١٨
Sunday, 4 November 2018
فساد اور فسادی (1 )
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment