" عید میلاد النبیؐ ، کس بات کی عید ؟"
جیسے ہی ربیع الاول کا چاند نظر آتا ہے ، نبیؐ کی محبت میں سرشار لوگ ، ایک دوسرے کو مبارک دینے لگتے ہیں ۔ ایسے میں کچھ " پکے مسلمان " بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں ۔
" کیسی عید ؟ کیا یہ عید صحابہؓ نے منائی ؟ کیا یہ عید خود رسولؐ نے منائی ؟ کیا یہ عید آل رسولؐ نے منائی ۔"
تاریخ سے ثبوت نہیں ملتا تو فتوی مل جاتا ہے کہ یہ بدعت ہے ۔ کیونکہ جو کام خود رسولؐ نے نہیں کیا اور نہ کرنے کا کہا ، نہ قرآن میں حکم نہ حدیث سے ثابت ، تو بدعت ہو گیا ۔
یہ تو وہی بتا سکتا ہے جو نبیؐ کی محبت میں سرشار ہے کہ وہ اس ماہ کی آمد پر اتنا خوش کیوں ہے ۔ میرے جیسا عام فہم تو مختصر جانتا ہے کہ ایمان کا اعلیٰ درجہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے ، جب ہم اپنے ماں باپ سے زیادہ اللہ اور رسولؐ سے محبت کریں ۔ ہم کتنی خوشیاں ہیں جو اپنے لئے ، اپنی اولاد کیلئے ، اپنے ماں باپ کیلئے مناتے ہیں ۔ اس میں بیاہ شادی ، تہوار اور دیگر مواقع شامل ہوتے ہیں ۔ نہ احادیث کی کتابیں کھولتے ہیں ، نہ صحابہؓ کی زندگیوں کے شب وروز کا مطالعہ کرتے ہیں ، نہ رسولؐ کا اسوہ دیکھتے ہیں ، بن سوچے بدعت پہ بدعت کرتے چلے جاتے ہیں ۔ نہ کوئی " پکا مسلمان " توجہ دلاتا ہے ، نہ کوئی فتوی لگتا ہے ۔ صرف نبیؐ کی ولادت پر کیوں یاد آ جاتا ہے کہ بدعت ہوگئی ۔
مجھے تو خوشی بھی ہوتی ہے ، دل بھی کرتا ہے اور ذہن بھی مانتا ہے کہ یہ دن خوشی کا دن ہے ۔ یہی وہ دن ہے ، جس دن کیلئے کائنات کی تسخیر ہوئی ، یہی تو وہ دن ہے جس دن ، یہ بتانے والا آیا کہ حق کیا ہے ، باطل کیا ۔ جس دن بتانے والا آیا کہ اللہ ہی ہے جو کائنات کا رب ہے ، جس نے رب سے متعارف کرایا ، قرآن لا کر دیا اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچنے کی راہ دکھائی ۔ سب عیدیں تو اسی دن کے سبب سے ملیں ۔ پھر تو یہ دن ہر عید کے دن کا خالق ہے ۔
اس سے بڑی خوشی کا دن کونسا ہو گا کہ اسی روز آنے والے نے ہی بتایا کہ شرک کیا ہے ، کفر کیا ، بدعت کیا ۔ مجھے تو اسی لئے یہ دن " عید " لگتا ہے ۔ میں تو یہ بھی سوچتا ہوں کہ جس دن اللہ نے اپنے حبیبؐ کو اس دنیا میں بھیجا ہوگا ۔ اللہ نے غصے کی حالت میں تو نہیں بھیجا ہوگا ۔ اپنی رضا سے بھیجا ہوگا ، اپنی خوشی سے بھیجا ہو گا ۔ یقینی طور اللہ خوش بھی ہوگا ، راضی بھی ۔ پھر اس دن کو عید کہہ لینے میں کیا حرج ہے ؟
آزاد ھاشمی
١٠ نومبر ٢٠١٨
Saturday, 10 November 2018
عید میلاد النبیؐ ، کس بات کی عید؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment