Sunday, 10 February 2019

سوال ہی سوال

" سوال ہی سوال "
جب بھی جمہوریت کے بارے میں کچھ لکھو ، ایک جمہوریت پرست طبقہ اس طریقے سے رائے زنی کرتا ہے ، جیسے جمہوریت انکے باپ دادا کا مقدس مذہب اور ایمان کا ایک حصہ ہے ۔ اسلام کے نظام کی خامیوں کو تلاش کرتے ہوئے ، خلفاء کے قتل ، اسلامی تاریخ کے حوصلہ شکن نتائج ، کسی بھی اسلامی ملک میں مروجہ قوانین کا ابہام ، ہمارے ملاوں کی کوشش کے باوجود حل نہ نکلنا ، ضیا الحق کا دو رخا چہرہ ، مسالک کی رسہ کشی وغیرہ وغیرہ کے ثبوت سامنے رکھے جاتے ہیں ۔ تا کہ اسلام کی بات کرنے والا منہ بند کر لے ۔ ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ اسلام ایک ناکام نظام ہے ۔ جس وجہ سے لاگو کرنے کی کوشش بار آور نہیں ہو گی ، اور نہیں ہو رہی ۔ بس جمہوریت کو پروان چڑھانا ہی دانشمندی ہے ۔ کچھ زیرک تو کہتے ہیں کہ اسلام نظام ہے ہی نہیں ، یہ تو صرف دین ہے ۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ کوئی بھی نبی اللہ کے نظام کو لاگو کرنے آیا ہی نہیں ، سب کا منشاء صرف انسانوں کو راہ راست پر لانا تھا ، حکومتی معاملات سے کوئی عمل دخل نہیں تھا ۔ حالانکہ اس حقیقت سے انکار ہی ممکن نہیں کہ ہر نبی اور رسول کا ٹکراو تھا ہی حکومتوں سے اور نظاموں سے  ۔  نظام کے بگڑنے سے عوام بگڑتی ہے اور سدھرنے سے سدھرتی ہے ۔ یہی تاریخ ہے اور یہی حقیقت ۔  اسلام کے خلاف ہمیشہ شیطانی عمل جاری رہا ہے اور اسے بگاڑنے کی کوشش میں رہا ۔ خلفاء کے قتل میں منافق محرک تھے ، خلفشار ان لوگوں نے جاری رکھا ، صالحین ذمہ دار نہیں تھے ۔ اس خلفشار کے باوجود اگر نظم و ضبط ، انتظام و انصرام ، معاشی اور سماجی ضروریات ، بنیادی حقوق اور حفظ و امان کی بات کریں ، تو دنیا میں ایسی مثال کبھی نہیں ملے گی ۔ جیسی صورت حال خلفاء کے دور میں رہی ۔ ہمارے ملا ، سیاسی اور فوجی حکمران صرف مداری ہیں ۔ کبھی خلوص سے آگے آئے ہی نہیں ۔ سوال پہ سوال کا مطلب صرف بحث کو طول دینا ہوتا ہے ، حل نکالنا نہیں ۔ حل نکالنے کیلئے خلوص سے تحقیق اور حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ جس کی ہمیں عادت نہیں رہی ۔
شکریہ 
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment