" خزانہ خالی ہے "
یہ وہ خبر ہے ، جو ہر حکمران نے حکمرانی کی کرسی پر بیٹھتے ہی سنائی ۔ یہ خزانہ کیوں خالی ہوا ؟ کس نے خالی کیا ؟ یہ الزام ہر جانے والے پر لگتا ہے ۔ قوم عادی ہوگئی اس خبر کی ، مگر کبھی نہ دانشور جاگے ، نہ ذمہ دار ادارے ہوش میں آئے ، نہ قانون نے اقدامات کئے اور نہ قانون سازی والوں نے اس چوری کو روکنے کا سد باب سوچا ۔ ہر آنے والے نے قوم کو نچوڑنے کا طریقہ ڈھونڈھا اور جب گیا تو قوم کا نچوڑا ہوا خزانہ لیکر بھاگ نکلا ۔
اس میں ان سیاسی اور فوجی حکمرانوں کا کمال نہیں کہ انہوں نے آسانی سے قوم کو " الو " بنایا ۔ اس میں قوم کی غفلت اور دیوانگی ہے کہ وہ احتساب کی دیوار نہیں بن سکے ۔ جس قوم پر رب کی ذات راضی نہ ہو ، اس قوم سے اللہ کی پاک ذات برکتیں اٹھا لیتی ہے ۔ وہاں اگر زر و جواہر کی بارشیں بھی ہوں ، قحط کی کیفیت تبدیل نہیں ہوتی ۔ ہم نے اپنے اللہ سے نا امیدی کو اپنایا اور انسانوں سے امیدیں باندھ لیں ۔ یہ وہ خطا ہے جو ہمیں خزانوں کو لوٹنے والوں کے سپرد کرتی رہی ۔ ایسے میں اگر ہمارے پہاڑ سونے کے بھی ہو جاتے تو ہم قلاش ہی رہتے ۔ خزانے رب کی رحمتوں سے بھرا کرتے ہیں ، ٹیکس ، بھیک ، امداد ، قرضے اور دیگر انسانی جتن خزانے نہیں بھر سکتے ۔ چور ، زانی ، بد کردار ، خائن اور اللہ کی حدود کے باغی حکمران اسی لئے مسلط ہوا کرتے ہیں کہ قوم بے راہرو ہو جاتی ہے ۔ جو قوم اللہ کی طے کردہ حدود سے نکل جاتی ہے وہ اللہ کی نصرت سے محروم ہو کر رہتی ہے ۔ قانون کی گرفت کا مضبوط ہونا اسی وقت ممکن ہوتا ہے ، جب اللہ کا خوف دل میں ہوں ۔ ہم نے انسانوں سے ڈرنا سیکھ لیا اور انسان طاقت کے بل بوتے پر مسلسل لوٹتے رہے اور مسلسل لوٹتے رہیں گے ۔ خزانے خالی رہنے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہم ہر حکمران کے سامنے گردن جھکا کر کھڑے ہیں ، اپنے حقوق سے دستبردار ہو کر حکمرانوں کی لوٹ کو انکا حق سمجھ لیں ۔ ہماری پارلیمنٹ ، ہمارے وزیر اور ہمارے تمام وی آئی پی ، لوٹ رہے ہیں ۔ پھر خزانوں کے خالی ہونے پر اچنبھا کیسا ؟
آزاد ہاشمی
٤ فروری ٢٠١٩
Saturday, 9 February 2019
خزانہ خالی ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment