Sunday, 3 February 2019

خیانت اور حکمران

" خیانت اور حکمران "
نظام حکومت اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ہر شخص کو بنیادی حقوق مساویانہ ملیں ، ہر کوئی تحفظ محسوس کرے اور ضروریات زندگی کا حصول آسان ہو ۔ ہر شہری کو موقع ملے کہ وہ اپنی استطاعت کو بھر پور طریقے سے استعمال کر سکے ۔ جنگل کا قانون نہ ہو کہ طاقتور جس کو چاہے لقمہ بنا ڈالے ۔ اگر ایسا کرنے میں مقتدر ناکام ہیں اور پھر بھی بضد ہیں کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھے رہیں تو وہ خائن ہیں ۔
اگر کوئی تاجر کسی بھی شے کی مقرر کردہ قیمت سے زائد قیمت وصول کرتا ہے تو وہ خائن ہے ، یہی اصول حکومت پر بھی لاگو ہے ۔ کہ پانی ، بجلی اور گیس کی قیمت وصول کر لینے کے بعد ، اس پر کوئی  بھی اضافی وصولی ، خواہ اسے کوئی بھی نام دیا جائے  تو وہ خیانت ہے ۔
کسی بھی عہدے پر کسی اہل کو نظر انداز کرکے کم اہل کا تقرر بھی خیانت ہے ، خواہ وہ وزارت ہو ، عدلیہ ہو یا انتظامی امور ہوں ۔
عوام سے لیا جانے والا ٹیکس ، عوام کی بہبود پر خرچ ہونا چاھئیے ، اسے وزراء ، اسمبلیوں بیٹھے روساء ، بیوروکریٹس کی عیاشیوں ، تنخواہ لینے کے بعد مراعات دینے پر خرچ کرنا بھی خیانت ہے ۔
اگر کوئی شخص ، طے کردہ تنخواہ وصول کر لیتا ہے اور اسکے بعد اسے دیگر مراعات ،( جن کا تعلق اسکی ذاتی زندگی سے ہے) دینا خیانت ہی کی ایک بد ترین شکل ہے ۔
گویا خیانت کو بہت سارے نام دے کر ، معاشرے کے کمزور افراد کو استحصال کا شکار رکھا جاتا ہے ۔ انہیں وہ ضروریات بھی بہم نہیں پہنچائی جاتیں جو انکو زندہ رہنے کیلئے درکار ہوتی ہیں ۔ حکمرانوں کیطرف سے بد ترین خیانت ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ فروری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment