" انجام کی فکر "
نم آلود پلکوں سے وہ پورے انہماک کے ساتھ کچرا خانے کیطرف دیکھ رہا تھا ۔ ایک عجیب سی خوف کی کیفیت اور اداسی اسکے دل اور سوچ کی عکاسی کر رہی تھی ۔
" کیا دیکھ رہے ہیں بابا جی "
میرے سوال پر چونک کر بولے
" انسان کی بے بسی اور اس معاشرے کی بے حسی کا تماشہ ۔ وہ دیکھو ، ایک انسان کچرے میں سے کھانے کی چیزیں تلاش کر رہا ہے ۔ یہ کون ہے ، کہاں سے آیا ۔ کیوں اتنا بے بس ہے "
" پاگل لگتا ہے بیچارہ " میں نے بات سمیٹنے کی کوشش کی ۔ میری بات سن کر بابا جی لال پیلے ہو گئے ۔ جیسے اس کی اس حالت کا میں ذمہ دار ہوں ۔
" چلو مان لیا کہ وہ پاگل ہے ۔ ہے تو ابن آدم ۔ ہم نے اسے پاگل سمجھ لیا بس ذمہ داری ختم ہو گئی ۔ یہی تو ستم ہے ۔ پاگل ہونے سے اسکا معاشرے پر حق مزید بڑھ جاتا ہے ۔ اسکی ایک ایک ضرورت کو پورا کرنا ہمارا فرض بن جاتا ہے ۔ مگر ہم نے اپنا ہر عمل مفادات سے جوڑ رکھا ہے ۔ جس سے کسی فائدے کی امید نہیں ، وہ مرے یا جئے ، ہمیں کیا لینا دینا ۔ تف ہے ایسے معاشرے پر ، ایسے خودغرض طبقوں پر ، بھوک اور افلاس کا راج ہوا کرتا ہے ۔ ارے یہ انسان ، اس وقت جس عمل سے گذر رہا ہے ، اس عمل سے تو کتے گزرتے ہیں ۔"
بابا جی کی منطق سے اتفاق ضروری نہیں تھا ۔ مگر بات میں کچھ وزن ضرور تھا
" یہ پاگل ، ہر اس شخص کا امتحان ہے ، جس نے اسکو اس حالت میں دیکھا اور افسوس کر کے آگے کو چل پڑا ۔ یہ میری اور آپ کی آزمائش بھی ہو سکتی ہے ۔ میں نے دو آنسو بہا لئے ، تم نے بیچارہ کہہ دیا ۔ بس۔ کہانی ختم ۔ نہیں بیٹا ، اسکو اس حال سے نکالنا ہماری ذمہ داری بن گئی ہے ، اسکا سوچو "
یہ کہہ کر وہ اٹھے اور اس شخص کی طرف چل دئے ۔ میں بھی بوجھل قدموں سے بابا جی کی تقلید کر رہا تھا ۔شکریہ
ازاد ہاشمی
4 فروری 2017
Sunday, 3 February 2019
انجام کی فکر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment