" یہ علم نہیں ، جہالت ہے "
بنی اسرائیل کے پاس جب بھی کوئی حکم ربی پہنچایا گیا ، انہوں نے انکار کرنے کے بہانے تلاش کئے ۔ عجیب عجیب توجیہات پیش کیں ، عجیب عجیب سوال کئے ۔ یہی ہو ضد تھی جس نے اللہ کو ناراض کیا ۔ اللہ کے احسانات سے انکاری قوم کو اللہ نے لمبی چھوٹ دی ۔ مگر وہ باز نہیں آئے ۔ پھر چھپنے کی جگہ نہیں ملتی تھی ۔ زمین تنگ ہو گئی ، شیرازہ بکھر گیا ۔ اسی روش کو انہوں نے دوسرے مذاہب میں منتقل کر دیا ۔ اب علم کے نام پر سوشل میڈیا پر ایسی بحثیں چھیڑی جا رہی ہیں ، جو اللہ کے احکامات میں ابہام کو جنم دیتی ہیں ۔ آج بھی ایک مفکر لکھتے ہیں ۔
(گویا خدائی کلام پلان کے ساتھ نازل نہیں ہوا ، ؟
جو واقعات رونما ہوتے رہے مطابقت کی آیات نازل ہوتی رہیں ؟
میثاق مدینہ بھی اتفاق تھا ؟)
کہا یہ جا رہا ہے کہ ہم علم دوست لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پہ جمع کر کے علمی بحث کر رہے ہیں ۔ حالانکہ علم یہ نہیں کہ شکوک پیدا کئے جائیں ۔ علم یہ ہے شکوک کی نفی کرکے معاملات کو عام فہم اور آسان بنایا جائے ۔ اگر کوئی شخص ایسے عالم سے یہ پوچھ لے کہ تمہارے والدین کو شادی کی اور نکاح کی کیا ضرورت تھی ۔ تمہیں اسکے بغیر بھی تو پیدا کیا جا سکتا تھا ۔ تو یہ علمی بحث نہیں جاہلانہ بحث ہوگی اور اعتراض ہو گا ، اللہ کی قائم کردہ حدود پر ۔ اس سوال کا کوئی جواب اس مفکر کے پاس نہیں ہوگا ۔ سوائے اسکے کہ وہ سیخ پا ہو جائے ۔
علم یہ ہے کہ نکاح اور شادی کی افادیت پر بحث ہو ۔
ایسے تمام بحثیں فساد ہیں ۔ اس میں علمیت کی قطعی ضرورت نہیں ، جہالت کی ضرورت ہے ۔
مذکورہ الفاظ پر توجہ کریں تو کوئی شک نہیں کہ یہ کھلی جسارت ہے ، اسلامی فکر میں شکوک پیدا کرنے کی ۔
آزاد ھاشمی
2 فروری 2018
No comments:
Post a Comment