Tuesday, 29 January 2019

صبر اور نماز

" صبر اور نماز "
جتنی بھی تدبیریں ، جتنی بھی دعائیں ، جتنا بھی شور و غوغا ممکن تھا ۔ درد دل رکھنے والے لوگ ایک تسلسل سے کر رہے ہیں ۔ ظلم کی آندھی رکنے کی بجائے اور تیز ہوتی جارہی ہے ۔ مجرم طاقتور ہیں اور مظلوم مجبور اور کمزور ۔ حکومت یا تو مجرموں کی پشت پناہی کرتی ہے یا قطعی بے بس ہے کہ اس لہر کو روک نہیں پا رہی ۔ ہر مجرم گرفت میں آ کر بھی آسانی سے نکل جاتا ہے ، اسکی ایک ہی وجہ ہے کہ مجرموں کی چین اہل اقتدار لوگوں سے جڑی ہوئی ہے ۔ بد قسمتی سے عدالتی نظام اسقدر فرسودہ ہے کہ مجرم اسکے شکنجے میں آ ہی نہیں سکتا ۔ وکلاء کی جیب بھر دی جائے تو وہ جج کے چیمبر میں جج کو خرید لیتے ہیں ۔ یہ جتنے جج بھڑکیں مارتے  ہیں اتنے ہی ناکارہ ثابت ہوئے ہیں ۔ انکے اپنے مفادات حکومت میں رہتے ہوئے اور کرسی سے ہٹنے کے بعد تک پیش نظر ہوتے ہیں ۔ اپنی اپنی عاقبت کی فکر میں یہ صرف شطرنج کھیلتے رہتے ہیں ۔ فوجی جرنیل بھی اس پلاننگ میں رہتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کونسی بہتر پوسٹ مل سکتی ہے ۔ اسکا ثبوت سفیروں کی شکل میں موجود ہے ۔
سوال ہے کہ اب عوام کیا کرے ۔ اللہ نے اسکا واضع حل دیا ہے کہ نماز اور صبر سے مدد طلب کرو ۔ قوم نماز سے کنارہ کش ہے ۔ ریا کے سجدے تو کرتے ہیں ، مگر ایمان کا سجدہ مفقود ہے ۔ جب نماز اور صبر کو پکڑ لیں ، اللہ ان درندوں کو زمین کی تہوں سے نکال کر عبرت کا نشان بنا دے گا
۔انسان کا قاتل کبھی نہیں بچ پاتا ۔ یہ چند دنوں کی دراز رسی پر مایوس نہیں ہونا چاہئیے ۔ اللہ سے خضوع اور خشوع سے اپنی اپنی بپتا کہنا شروع کردو اور انتظار کرو ، اللہ اپنا انصاف اسی دنیا میں دکھا دے گا ۔ اگر ہم سب چاہتے ہیں کہ ظالم کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو پورے ایمان کے ساتھ نماز پڑھو اور صبر کرو ۔ یہ حل اللہ نے بتایا ہے اور اللہ کا بتایا ہوا حل کبھی ناکام نہیں ہوتا ۔
آزاد ھاشمی
26 جنوری 2018

No comments:

Post a Comment