پہلی وحی کا نزول (2)
پہلی وحی کا تسلسل اس حقیقت کا بین ثبوت ہے ، کہ یہ ایسا سبق نہیں جو کسی نو آموز اور نا خواندہ کو پڑھایا جا رہا ہے ۔ بلکہ یہ ایک دستور ہے جس کی ہر ہر شق پر پوری اگاہی دی جا رہی ہے ۔ انسان کی فطرت اور مزاج پر ، نہایت اختصار میں بتایا گیا کہ
کَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی ۙ
" ہرگز نہیں! انسان تو یقینا سر کشی کرتا ہے"
اَنۡ رَّاٰہُ اسۡتَغۡنٰی
" اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز خیال کرتا ہے۔"
مگر اس اختصار میں بتایا جا رہا کہ آپؐ کو سونپی جانے والی ذمہ داری کسقدر کٹھن ہے ۔
کیونکہ جب انسان وسائل پر قابو پا لیتا ہے تو خود کو بے نیاز سمجھ کر سر کشی پر آمادہ ہو جاتا ہے ۔ ایسے انسان کی اصلاح اور سر کشی سے روکنا ، نا ممکنات کی حد تک مشکل ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ انسان کتنا بھی خودسر ہو جائے ، ایک روز
اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجۡعٰی
" یقینا آپ کے رب کی طرف ہی پلٹنا ہے۔"
آپ کی نبوت اور رسالت کی ذمہ داری کے یہ ابتدائی مشکل ترین پہلو ہیں ، جس کی اصلاح کی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے ۔ وحی دوسرے انبیاء پر نازل ہوئی ، صحائف اور الہامی کتابیں دوسرے رسولوں کو بھی دئیے گئے ۔ اب چونکہ کامل دین کے نازل کرنے کا مرحلہ تھا ،
جس وجہ سے آپ پر وحی کا نزول اور دین کی تشریح کا انداز بھی پہلے انبیاء اور رسولوں سے مختلف تھا ۔ اب ایک قوم ، یا ایک امت کی اصلاح تک نبوت کی حد قائم نہیں کی جا رہی تھی ، جیسے پہلے رسولوں پر کی گئی ۔ اب اس رسالت کی حد دنیا کے وجود تک کے تمام انسانوں کیلئے تھی ۔
----- جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢٣ جنوری ٢٠١٩
Friday, 25 January 2019
پہلی وحی کا نزول 2
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment