"قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ "
قرآن کی بلاغت ہے کہ ایک ایک لفظ میں ، ایک مفصل پیغام ہے ، واضع حکم ہے ۔
" قل " کا لفظی معنی "کہہ دو " ہے مگر اصل پیغام یہ ہے کہ ہر قاری پر لازم قرار دیا گیا کہ وہ اس بات کی اشاعت کرے ۔ تبلیغ کرے ۔ اگاہی دے ۔ کہ " اللہ آحد ہے "
اَحَدٌ : اس ’’ ایک‘‘ کے لیے استعمال ہوتا ہے جو کثرت کو قبول نہ کرے۔ اسلام میں توحید بنیادی ایمان کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یوں کہہ لیں کہ اللہ کی وحدانیت اسلام کی اساس ہے ۔ ایمان کے لئے لازم ہے کہ ہم اللہ کو اسکی ذات میں اور صفات میں " آحد " مانیں ۔
اَللّٰہُ الصَّمَدُ
وہ ذات جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں ۔ احتیاج ضرورت کی شکل ہے ۔ کائنات میں جس کی بھی تخلیق ہوئی وہ کسی نہ کسی عمل کے تحت ہوئی اور جو کچھ موجود ہے اسے قائم رہنے کیلئے کچھ نہ کچھ درکار ہے، یہ احتیاج ہے اور یہ محتاجی ہے ۔ اللہ کی ذات واحد ذات ہے جو اس سب سے بے نیاز ہے ۔ چونکہ وہ بے نیاز ہے اسلئے اسے اپنی ذات کیلئے کسی تخلیقی عمل کی قطعی ضرورت نہیں ۔
لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ ۙ
"نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا"
اللہ کی ذات اور صفات میں چونکہ کوئی تخلیقی احتیاج شامل نہیں اسلئے پیدائش کا عمل اور پیدائش کے عمل سے گذرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ باقی کائنات میں کوئی بھی ایسا نہیں جسکی ذات کسی نہ کسی عمل کی محتاج نہ ہو۔ اسلئے قرآن کہتا ہے
وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ
" اور کوئی بھی اس کا ہمسر نہیں ہے۔"
چونکہ سورہ کا آغاز " قل " سے کیا گیا تو ہر اس شخص پر لازم ہو گیا جو ایمان لایا اور جس نے اسلام قبول کیا کہ ہم اللہ کی ان تمام صفات کی اشاعت کریں ، اگاہی دیں اور تبلیغ کریں ۔ ان صفات کی ضد میں کی جانے والی ہر کوشش کی نفی کریں ۔
آپ کی دعاوں کا طالب
آزاد ھاشمی
٢١ جنوری ٢٠١٩
Tuesday, 22 January 2019
قل ہو اللہ آحد
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment