Monday, 21 January 2019

بد بخت

" بد بخت "
اللہ رحیم و کریم نے اسے صبر کے اعلیٰ درجے تک نواز رکھا ہے ۔ وہ ایک صابر اور شاکر دل کی مالک ماں ہے ۔ تکلیف کی انتہا میں بھی کبھی اظہار کرتے نہیں دیکھا تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب کمر کی درد سے حرکت کرنا بھی مشکل ہو رہا تھا ۔ تب بھی باورچی خانے میں کچھ نہ کچھ کر رہی ہوتی تھیں ۔ کبھی پیٹ بھر کے کھانا نہ کھانا عادت بن چکی تھی ۔ بیٹے اپنے اپنے گھروں میں ہر آسائش سے لطف اٹھا رہے ہیں  ، اور یہ ماں گرمی میں تنگ سے گھر میں زندگی گذار رہی ہے ،  اور کبھی شکایت کا ایک لفظ زبان پہ نہیں لاتیں ۔ وہ دن بھی یاد ہے جب بیٹے نے ماں کو " جھوٹی " ثابت کر دیا تھا ، تاکہ پسند کی شادی کر سکے ۔ مگر اس فرشتہ صفت خاتون کی زبان گنگ ہو کر رہ گئی ،  بیٹے کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے تکتی رہی تھی ۔ بچوں کی ہر بے اعتنائی کی پردہ داری کرنے والی یہی ماں ، فون پر بلک بلک کر رو رہی تھی ۔
" دیکھنا بیٹا ! ایک دن میرا صبر ان بد بختوں کا کڑا امتحان بن جائے گا "
جب ایک ماں اپنی اولاد کے بارے میں ایسے کہے گی تو یہ اسکے دکھ کی انتہا ہوگی ۔
" میرے جسم میں جان باقی نہیں رہی ۔ بیماری نے معذور کر دیا ہے ۔ پچھلے کئی روز سے خون تھوک رہی ہوں ۔ کم بخت کہتے ہیں ، ہمارے پاس کچھ نہیں اور تین روز پہلے ہزاروں روپے لگا کر بچی کی سالگرہ کی ہے ۔ "
وہ ایک چھوٹے معصوم بچے کیطرح چیخ کر رو رہی تھی ۔
" میں نے بھی قسم کھا لی ہے ، مر جاوں گی مگر ان کم بختوں سے کبھی دوائی نہیں مانگوں گی ۔ ایک نے گھر خرید لیا ہے اور دوسرے نے کار ۔ مگر جب میں مرنے لگتی ہوں تو خیراتی ہسپتال لے جاتے ہیں "
وہ سامنے والے کی بات سنے بغیر  اپنا دکھ کہے جا رہی تھیں ۔
" بیٹا ! ڈیڑھ سال سے میں یہ سب تم سے کہنا چاہتی تھی ۔ آج ہمت کر کے کہہ رہی ہوں ۔ میرا راز رکھنا ۔ اب میں اپنی اولاد کا بھرم کیسے رکھوں ؟ دل بہت بوجھل تھا ۔ سوچا کہ جی بھر کے رو لوں "
سر کی چادر بھی آنسووں کو سمیٹنے میں ناکام ہو گئی ۔
" یہ نمازیں بھی پڑھتے ہیں ، عمرے بھی کرتے ہیں ، قرآن بھی باقاعدگی پڑھتے ہیں ۔ لیکن دیکھنا ، اللہ یہ سب انکے منہ پہ  دے مارے گا "
ماں اپنے بطن سے جنم لینے والی اولاد کیلئے ایسا بول رہی ہو تو اسکا کرب انتہا پر ہوتا ہے  ۔
" بیٹا ! انکی بلیوں کے علاج کیلئے ہر ہفتے دو ہزار روپیہ جاتا ہے اور روز پانچ سو کی خوراک آتی ہے ، میرے لئے دوائی کے پیسے نہیں ۔ سترہ بلیوں کو پال رہے ہیں اور ایک ماں دوائی کو ترس رہی ہے ۔ کہتے ہیں بلیوں  کے خیال رکھنے کا بہت اجر ہے"
اس نے آنسووں کے سیلاب کو بہانے کا پختہ ارادہ کر رکھا تھا ۔
میں سن رہا تھا ۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا
" اے اللہ ! ایسی بد بخت اولاد کسی کو نہ دے "
آزاد ھاشمی
١٨ نومبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment