Wednesday, 23 January 2019

پہلی وحی کا نزول

پہلی وحی کا نزول (1)
"اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ "
اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلی وحی کا  رسولؐ کو مخاطب کرتے ہوئے پہلا پیغام تھا ۔
" پڑھیے! اپنے پروردگار کے نام سے جس نے خلق کیا ."
تو رسولؐ کے سامنے کوئی کتاب نہیں رکھی گئی ۔ کوئی تحریر نہیں تھی کہ جسے پڑھنے کا حکم دیا جا رہا تھا ۔ کوئی لکھے ہوئے حروف یا الفاظ نہیں تھے ۔
بلکہ کائنا ت کی کھلی تخلیق کے مشاہدے اور علم کی بات شروع کی گئی ۔  پہلا باب اس کائنات کے خالق کی تخلیق کا مطالعہ تھا , فکر کی دعوت تھی ، سوچنے کا رخ تھا ۔
دوسرا باب " خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ ۚ"
اور دوسرا باب کائنات کی اس مخلوق کے بارے میں تھا  ، جسے اشرف المخلوقات بنایا گیا  ۔ کہ اس تخلیق کا پہلا مرحلہ ، خون کے ایک لوتھڑے سے شروع ہوتا ہے ،  جو انسان کے تفاخر کی نفی ہے ۔ مگر  اس تخلیق کو کیا حسن ملا ،  کیا شکل دی گئی اور یہ کیسے ہوا ۔ یہ تیسرا باب ہے کہ
"اِقۡرَاۡ وَ رَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ "
بتایا جا رہا ہے کہ یہ تیرے رب کے کرم کیوجہ سے ہوا ۔ ورنہ انسان کی حیثیت کچھ  نہ تھی ۔  پھر اس انسان کو عروج کیطرف کیسے لے جایا گیا ، فرمایا
الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ ۙ
جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی۔
عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ ؕ
اس نے انسان کو وہ علم سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔
وحی کی تعلیم کا یہ انداز  محض ظاہری حواس کے ذریعے سے اگاہی دینا نہیں بلکہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اخذ کرانا تھا ۔ جب یہ پیغام حضورؐ کو ملا تو اسکی
تصدیق آپ ؐ کے دل نے کی ہے۔ مَا کَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰی (نجم:11) ’’جوکچھ دیکھا تھا اس کی دل نے تکذیب نہیں کی۔‘‘ لہٰذا یہ کہنا کہ رسول کریمؐ پر نزول وحی اور نبوت کی تصدیق  ورقہ بن نوفل سے لی  گئی ہے، درست نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢٢ جنوری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment