Sunday, 3 February 2019

ترجیحات منزل کا پتہ دیتی ہیں

" ترجیہات منزل کا پتہ دیتی ہیں "
خبر ہے کہ موجودہ حکومت نے حج پر سبسڈی ختم کردی ہے اور گذشتہ سال حج کے اخراجات ، اس سال دگنا ہو گئے ہیں ۔ تبصرے میں ایک رائے یہ ہے کہ حج صرف صاحب استطاعت پر واجب ہے ۔ اسلئے سبسڈی حکومت کے خزانوں پر بوجھ ہے ، اس اعتبار سے یہ فیصلہ نہایت دانشمندانہ ہے ۔ مذہبی اعتبار سے کیا درست ہے اور کیا غلط ، یہ ایک الگ بحث ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ترجیح خزانے سے بوجھ کم کرنا ہے تو اسمبلی ممبران کی مراعات ، وزراء کی فوج ظفر موج ، حکومتی اہلکاروں کے بے جا اخراجات ، سب کے سب خزانے پر بوجھ ہیں۔ حج پر ایک لاکھ افراد جاتے ہونگے اور یہ اخراجات سال میں ایک بار ہونگے ، مگر مذکورہ اخراجات تو ہر روز ، ہر ماہ اور وہ بھی کئی لاکھوں افراد پر ہو رہے ہیں ۔
حکومت کی واضع ترجیحات میں ، اسلامی جذبے کو آہستہ آہستہ دبانے کا عمل جاری ہے ۔ مدارس پر جو مہربانی کی نوید ہے اور سکولوں میں قرآن کی تعلیم کا آغاز ایک معمولی سا انداز ہے کہ عام شہری کو احساس دلایا جائے کہ ہم واقعی " ریاست مدینہ " کی منزل پر محو سفر ہیں ۔ سکولوں میں جو کلچر جنم لے رہا ہے اور اس پر جو آزاد خیال نسل آگے بڑھے گی وہ مذہب سے بہت دور جا چکی ہوگی ، کہ شاید انہیں واپس نہ لایا جا سکے ۔ نماز ، حج ، زکوٰة اور روزہ پرانے وقتوں کی بات بنائی جا رہی ہے ۔ علماء کو مذہبی معاملات پر آواز بلند کرنے پر جیلوں میں ٹھونس دینا ، اور دین کی توہین کرنے والوں کو تعاون فراہم کرنا ، اس امر کی گواہی ہے کہ ہماری منزل کچھ اور ہے ۔
محققین کیلئے عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر کوئی حکومت اپنے عوام کو مراعات دیتی ہے تو یہ قرض نہیں ہوتا ۔ عوام کا حق ہوتا ہے اور حکومت پر فرض ہوتا ہے کہ وہ عوام کو مذہبی فرائض ادا کرنے کی ہر سہولت فراہم کرے ۔ محققین سے سوال ہے کہ ایک حاجی پر ایک دن میں رہائش ، خوراک اور آمد و رفت کیلئے کتنے پیسے وصول کرنا جائز ہے اور حکومت کتنے پیسے وصول کر رہی ہے ؟ کیا ایک دن میں پندرہ ہزار روپیہ خرچ ہو گا؟
اصل معاملہ یہی ہے کہ حج کے رحجان کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔
آزاد ھاشمی
٢ فروری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment