Saturday, 9 February 2019

کسان کیا کرے؟

" کسان کیا کرے؟ "
بہت عام اور سادہ سی جمع تفریق ہے کہ زراعت وہ شعبہ ہے جو ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے ۔ کیونکہ خوردنی اشیاء کی بہتر پیداوار ، مہنگائی کے راستے کہ بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوا کرتی ہے ۔ اگر ضرورت سے زیادہ پیداوار ہو گی تو زر مبادلہ حاصل کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے ۔
اللہ نے ہمیں وہ مٹی عطا کی ، کہ جس میں ایک بیج ڈال دو تو سینکڑوں دانے واپس ملتے ہیں ۔ ایسے موسم ہمارا مقدر ہیں کہ شاید کسی ملک کو نصیب ہوں ۔ ہر طرح کی فصل ، پھل ، سبزیاں اگانے کے موافق موسم اور درجہ حرارت ۔ ہمارا کسان ، دنیا کا بہترین اور تجربہ کار کسان ہے ۔ جس کو اللہ نے ایسی ہمت اور طاقت سے نواز رکھا ہے کہ تھکن کے نام سے بھی اگاہ نہیں ۔ ہاتھ کی انگلیوں کیطرح بہتے دریا ہماری وراثت تھی جو سیاسی دھما چوکڑی میں ہم سے چھن گئے ۔
زراعت سے وابستہ محنت کش کسان ، سیاسی حماقتوں سے اسقدر متاثر ہوا کہ اس نے بچوں کو شہروں میں محنت مزدوری کیلئے بھیج دیا ۔ زمین سے دلچسپی ختم ہونے لگی اور زمینوں کی فروخت شروع ہوئی ۔ زرخیز زمینیں سکڑنے لگیں اور شہر پھیلنے لگے ۔  کسان کو لوٹنے والوں میں کھاد کا صنعتکار ، زرعی ادویات بنانے والے ، بیج کا کاروبار  کرنے والے اور بجلی کا محکمہ سر فہرست ہیں ۔  ان کی لوٹ مار کے بعد کسان کو اتنے پیسے نہیں ملتے کہ وہ اپنی زندگی کو آسودگی سے گذار سکے ۔ گنے کی فصل سے جلانے والی لکڑیاں مہنگی ہیں ۔ گندم اور چاول بمشکل پیداواری اخراجات پورے کرتے ہیں ۔ برآمدات میں سیاسی لوگوں کی اجارہ داری نے دنیا کے بہترین پھلوں کی مارکیٹ تباہ کردی ۔ چاول گوداموں میں پڑا سڑنے لگا ۔ کسانوں میں اکثریت ایسی ہے جو جاگیر داروں کی زمین پر "ہاری " بن کر کام کرتے ہیں ۔ اور " زمیندار " اس کی محنت سے اپنا پیٹ بھی بھرتا ہے ، عیاشی بھی کرتا ہے اور سیاسی کشتی بھی لڑتا ہے ۔ ہاری ، مجبور ہے اور مجبوری میں لگن سے کام کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔
ایسے بیشمار اسباب ہیں ، جس سے کسان کی حوصلہ شکنی ہوئی اور زراعت کا شعبہ زوال کیطرف بڑھنے لگا ۔ اب ہم مجبور ہیں کہ پیاز جیسی ضرورت کیلئے درآمد کا سہارا لیتے ہیں ۔ گندم درآمد کرتے ہیں ، کوکنگ آئل کیلئے خام تیل درآمد کرتے ہیں ۔ درآمدات کے اس شغل سے تاجر کی چاندی ہو جاتی ہے اور زراعت زنگ آلود ہو گئی ہے ۔ اب کسان اس مخمصے میں ہے کہ وہ کیا کرے ؟ یہ الجھن پاکستان کے ساٹھ فیصد عوام کی ہے ۔ جس پر نہ قانون ساز کو فکر ہے ، نہ پالیسی بنانے والوں کو پریشانی اور نہ حکمرانوں کو خبر ۔ اگر یہی کیفیت جاری رہتی ہے تو ہماری زمینوں پر گھاس پھونس اگے گی اور ہم اشیائے خوردنی درآمد کرتے نظر آئیں گے ۔ اے کاش ! حکمران اس پر توجہ کیلئے ، سیاسی جھگڑوں سے کچھ وقت نکال کر سوچیں ۔ اور کسان کا حوصلہ ٹوٹنے سے پہلے کوئی حل نکال لیں ۔
آزاد ھاشمی
٦ فروری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment