Saturday, 9 February 2019

قصاب اور سیاستدان

" قصاب اور سیاستدان "
سوڈان میں جدید ترین مذبحہ دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ ہوتا یوں ہے کہ جانوروں کی بڑی تعداد ، گائے یا بھیڑ اور بکری ، جو بھی ہو ، اسے ہانک کر ایک جنگلے میں پہنچا دیا جاتا ہے ۔ جب سب اس جنگلے تک پہنچ جاتی ہیں تو ایک چھوٹا دروازہ کھول دیتے ہیں ۔ پھر ایک ایک جانور از خود اس میں یوں داخل ہوتا جاتا ہے کہ ایک قطار بن جاتی ہے ۔ اب چھوٹا دروازہ جس سے جانور داخل ہوئے تھے بند کر دیا جاتا ہے ۔ مذبحہ کا ایک مضبوط دروازہ کھلتا ہے تو ایک جانور اس میں نہایت پھرتی سے داخل ہوتا ہے ۔ جیسے ہی داخل ہوتا اسکے پاوں متوازن نہیں رہتے اور وہ گر جاتا ہے ۔ اسکی گردن از خود اس ٹوکری نما جگہ سے باہر آجاتی ہے ۔ قصاب بڑا سا چھرا گردن پہ چلاتا ہے اور جانور نہایت اطمینان سے ، کسی حرکت کے بغیر ذبحہ ہو جاتا ہے ۔ پھر اسکے بعد کے مراحل شروع ہو جاتے ہیں  ، یعنی کھال اتاری جاتی ہے ،  حسب منشاء ٹکڑے کئے جاتے ہیں اور پیک کر کے بیوپاری کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔
اس جدیدیت کا تذکرہ یوں کرنا پڑا کہ اس وقت کی سیاست ، عوام کو اسی طرح گھیر کر ذبحہ کرنے کیلئے لے آتی ہے اور پھر عوام ایک قطار میں لگ کر ذبحہ ہونے کیلئے ، نہایت اطمینان سے آگے بڑھتے رہتے ہیں ۔ جو سب سے آگے ہوتا ہے اسکا وہی حشر ہوتا ہے کہ سیاستدان ہاتھ میں چھری لئے کھڑا ہے کہ وہ گرے اور ذبحہ کیا جائے ۔
عام ذبیحہ کیلئے ، جو طریقے استعمال ہوتے تھے ، جانور مزاحمت بھی کرتے تھے ۔ پہلے جو سیاست ہوتی تھی ، عوام میں مزاحمت اور عدم دلچسپی بھی ہوا کرتی تھی وہ سیاستدان کے کردار پر نظر رکھتے تھے ، برے کو برا بھی کہتے تھے ۔  مگر اب جدید ٹیکنالوجی کیطرح سیاست کے فریب بھی جدید ہو گئے ہیں ۔ اب سیاستدان اپنی اغراض کی بھینٹ چڑھاتا ہے تو ذبحہ ہونے والے کو تڑپنے کا موقع بھی نہیں ملتا ۔ جو اندر چلا جاتا ہے ، باہر والے کو خبر نہیں ہوتی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ۔ وہ بھی داخل ہو جاتا ہے ۔ ایک قطار ختم ہوتی ہے تو دوسری شروع ہو جاتی ہے ۔ سیاسی چھری چلتی ہی رہتی ہے اور عوام کٹتے ہی رہتے ہیں ۔ کٹنے والے کی کھال تک بک جاتی ہے ۔ 
یوں لگتا ہے کہ جدید دور کا قصاب اور سیاستدان ایک ہی طرز پر عمل کرتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٨  فروری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment