Friday, 25 August 2017

قانون ساز یا قانون شکن

" قانون ساز یا قانون شکن "
ہمیں تو آج تک یہی بتایا گیا کہ اسمبلی کے تمام ممبران کو ہر پانچ سال بعد ہم ایک خطیر رقم خرچ کر کے ، اسلئے منتخب کرتے ہیں ، کہ وہ آئینی ، قانونی اور دستوری ضوابط کو ہم آہنگ کریں ۔ تاکہ عوام کی سہولیات میں کوئی الجھن آڑے نہ آئے ۔ یہ اخراجات کا بوجھ صرف ایک دفعہ قوم کی کمر پر نہیں لادا جاتا بلکہ ہر روز ان ممبران کے ناز و نخرے پورے کرنے کیلئے روز اس بوجھ میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔ انکی اسمبلی کے اندر کی حرکتیں ، نونک جھونک ، ایک دوسرے کی عیب جوئی ، بازاری گفتگو اور منافقانہ چالبازیوں پر بھی انہیں " خرچہ " دینا ، انکے حقوق ہیں ۔ 
کبھی بھی ، کسی بھی دور میں ، کسی بھی جابر سے جابر توپ بردار حکمران کو بھی جرات نہیں ہوئی کہ ان تماشہ گروں کے گلے میں انگلی ڈال سکے ، اور قوم کا ہضم کیا گیا سرمایہ اگلوا سکے ۔
کیوں ؟ ایسا کیوں ہوتا رہا ؟ ایسا کب تک ہوتا رہے گا ؟
یہ وہ سوالات ہیں ، جس کا کوئی جواب نہیں ۔ بڑے سے بڑا جج بھی ، بے بس ہے ۔  وہ جج جو اپنی عدالت کے دوران کسی کے کھانسنے پر بھی " آرڈر آرڈر " کے ہتھوڑے مارنے لگتا ہے ۔ ان طاقتور اسمبلی ممبران کے سامنے بھیگی بلی کی طرح ، عدالت کا سارا وقار بھول جاتا ہے ۔ خاموشی سی سمٹ کر بیٹھ جاتا ہے ۔ کسی منہ زور وکیل کے منفی دلائل سے  بھی مرعوب ہو کر ، بے چاری قوم کا گلا گھونٹنے کا راستہ ڈھونڈھ نکالتا ہے ۔ سورج کی طرح نظر آنے والے دلائل پر بھی مصلحت کی راہ نکالنے لگتا ہے ۔
کیا اس پر کوئی دوسری رائے ہے کہ یہ تمام قانون دان ، قانون ساز  اور قانون لاگو کرنے والے از خود قانون شکن نہیں  ۔ یہ خود قانون کو پامال کرتے ہیں ۔ طاقتور وکیل کے پیچھے طاقتور ہاتھ ہو تو " نظریہ ضرورت " " صوابدیدی اختیارات " کی مدد سے جج بھی کرسی بچا لیتا ہے ، محافظ بھی خاموشی کو مناسب سمجھتا ہے ۔ اور چپکے سے میڈیا کی جیب گرم کر کے قوم کو سبق پڑھانا پھر سے شروع ہو جاتا ہے کہ قانون کی پاسداری لازمی ہے ۔ قانون شکن ہی ڈرانے لگتے ہیں کہ جس نے قانون ہاتھ میں لیا ،  اسے معاف نہیں کیا جائے گا ۔
واہ جی واہ ۔ شاباش تم سب قانون شکنوں کی جرات کو ۔ سلام تمہاری منافقت کو ۔ اور حیف تمہاری تربیت پہ  .
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment