Friday, 25 August 2017

ٹرمپ بولتا ہے ، ہم کانپتے ہیں

" ٹرمپ بولتا ہے ، ہم کانپتے ہیں "
ٹرمپ پوچھتا ہے " ہم اربوں ڈالر دیتے ہیں کہ دہشت گردی روکو ، کیوں نہیں روکتے ۔ کہاں جاتے ہیں یہ ڈالر "
یہ سوال مجھ سے یا آپ سے نہیں ۔ یہ سوال ہمارے فوجی ، جمہوری  حکمرانوں اور مقتدر لوگوں سے ہے ، جو یہ ڈالر لیتے ہیں ۔ سوال تو قطعی درست ہے ۔ 
قومی سوچ کا دیوالیہ پن ہے کہ ہم نے ٹرمپ کو آنکھیں دکھانے کا مطالبہ شروع کر دیا ۔ اسکے سامنے اعلان کرنے کی ضرورت کو محسوس کرانے لگے ، اور حکمرانوں سے کہہ رہے ہیں کہ اسے منہ توڑ جواب دیا جائے ۔ درست ہے یہ ہماری حمیت کا تقاضا ہے ۔ ہماری بہادری پر حرف آرہا ہے ۔ جب قومیں بھیک کھانے لگیں ، بہادر نہیں رہ جاتیں ۔
کیا قوم نہیں جانتی کہ ہمارے حکمران کس قماش کے لوگ ہیں ۔ ہم بحیثیت قوم بھکاری ہو گئے ہیں ، خود داری نام کا پرندہ اڑا چکے ہیں ۔ بھیک کو اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ ہم امریکہ سے یہ کہہ کر پیسے لیتے ہیں کہ ہم تمہاری پھیلائی ہوئی آگ کو سمیٹ رہے ہیں ۔ ہمیں مدد دو تو ہم قیامت تک تمہارے غلام ہیں ۔ تمہارے لئے لڑتے رہیں گے ۔ ہم اپنی معیشت کا ستیاناس کر دیں گے ۔ بس ہمیں ڈالر دکھاتے رہو ۔ اب یہ آقا پوچھتا ہے کہ تم نے لڑنا کیوں بند کردیا ۔ ملک میں امن کیوں ہے ۔ ہر گھر میں ماتم کیوں نہیں ۔
اب ہمارے دانشور بتاتے ہیں ، یہ جو ٹرمپ ہے ، پاگل ہے ۔ کمروں میں گھس جاو ، نہیں تو تمہارا حشر بھی عراق ، لیبیا ، شام جیسا ہو گا ۔
ایک خوف سا مسلط ہو گیا ہے ۔ ہمارے جرنیل حکمرانوں کی بہادری کو شاباشی ہے ۔ ہماری ایجنسیوں کو سلیوٹ ہے ۔ ایک جنرل نے افغانستان کی جنگ اپنی سرزمین پر لا کھڑی کی ، اس دلیل پر کہ روس ہمارے ملک میں گھسنا چاہتا ہے ۔ امریکہ بہادر سے ڈالر لئے اور اسکا اعلان کیا ۔
ایک کمانڈو نے باور کرایا کہ ہم امریکہ سے پنگا لیں گے تو ہمارے شہر کھنڈر بن جائیں گے ۔ انہوں نے بزدلی کا وہ بیج بو دیا کہ پوری قوم مخنس کر ڈالی ۔
رہی سہی کسر سیاسی ملاوں نے پوری کر دی کہ ایمان کا جذبہ نچوڑ کر مسالک کی جنگ پر لگا دیا ۔ اب ہمارا جہاد اپنی عبادت گاہوں ، اپنی پبلک جگہوں پر بم پھوڑنے پر محدود ہو گیا ۔
ٹرمپ بولے گا تو ہم کانپیں گے ۔ حکمرانوں سے نہیں پوچھیں گے کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے ۔ الزام لگا رہا ہے یا سچ بولتا ہے ۔ اس پاگل شخص کو روکتے کیوں نہیں ۔ کہ ہماری قوم کی توہین مت کرے ۔ ہمیں بھکاری مت کہے ۔
تمہاری کرتوتوں کی گالیاں ہم کیوں سنیں ۔ ہمیں بھی بتاو کہ یہ ڈالر کہاں گئے ۔ کس کس نے بانٹے ۔ قوم کو کیا ملا ۔
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment